یعنی اے احسان کرنے والو! اپنے صدقات کو جن کی صدق پر بنا چاہئے۔ احسان یاد دلانے اور دکھ دینے کے ساتھ برباد مت
کرو ۔یعنی صدقہ کا لفظ صدق سے مشتق ہے۔ پس اگر دل میں صدق اور اخلاص نہ رہے تو وہ صدقہ صدقہ نہیں رہتا۔ بلکہ ایک ریاکاری کی حرکت ہوجاتی ہے۔ غرض احسان کرنے والے میں یہ ایک
خامی ہوتی ہے کہ کبھی غصہ میں آکر اپنا احسان بھی یاد دلادیتا ہے اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے احسان کرنے والوں کو ڈرایا۔
تیسرا درجہ ایصال خیر کا خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بالکل احسان
کا خیال نہ ہو اور نہ شکر گذاری پر نظر ہو بلکہ ایک ایسی ہمدردی کے جوش سے نیکی صادر ہو جیسا کہ ایک نہایت قریبی مثلاً والدہ محض ہمدردی کے جوش سے اپنے بیٹے سے نیکی کرتی ہے۔ یہ وہ
آخری درجہ ایصال خیر کا ہے جس سے آگے ترقی کرنا ممکن نہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ان تمام ایصال خیر کی قسموں کو محل اور موقعہ سے وابستہ کر دیا ہے اور آیت موصوفہ میں صاف فرما دیا ہے
کہ اگر یہ نیکیاں اپنےؔ اپنے محل پر مستعمل نہیں ہوں گی تو پھر یہ بدیاں ہو جائیں گی۔ بجائے عدل فحشاء بن جائے گا ۔یعنی حد سے اتنا تجاوز کرنا کہ ناپاک صورت ہو جائے۔ اور ایسا ہی بجائے
احسان کے منکر کی صورت نکل آئے گی یعنی وہ صورت جس سے عقل اور کانشنس انکار کرتا ہے اور بجائے ایتاء ذی القربیٰ کے بغی بن جائے گا۔ یعنی وہ بے محل ہمدردی کا جوش ایک بری صورت
پیدا کرے گا۔ اصل میں بغی اس بارش کو کہتے ہیں جو حد سے زیادہ برس جائے اور کھیتوں کو تباہ کردے اورحق واجب میں کمی رکھنے کو بغیکہتے ہیں۔ اور یا حق واجب سے افزونی کرنا بھی
بغی۔ہے غرض ان تینوں میں سے جو محل پر صادر نہیں ہوگا وہی خراب سیرت ہو جائے گی۔ اسی لئے ان تینوں کے ساتھ موقع اور محل کی شرط لگا دی ہے۔ اس جگہ یاد رہے کہ مجرد عدل یا احسان یا
ہمدردیء ذی القربیٰ کو خلق نہیں کہہ سکتے بلکہ انسان میں یہ سب طبعی حالتیں اور طبعی قوتیں ہیں کہ جو بچوں میں بھی وجود عقل سے پہلے پائی جاتی ہیں۔ مگر خلق کے لئے عقل شرط ہے اور نیز
یہ شرط ہے کہ ہر ایک طبعی قوت محل اور موقعہ پر استعمال ہو۔
اور پھر احسان کے بارے میں اور بھی ضروری ہدایتیں قرآن شریف میں ہیں اور سب