دوسرا خلق اخلاق ایصال خیر میں سے عدل ہے اور تیسرا احسان اور چوتھا ایتاء ذی القربیٰ۔ جیسا کہ اللہ جلّ شانُہٗ فرماتا
ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ نیکی کے مقابل پر نیکی کرو۔ اور اگر عدل سے بڑھ کر احسان کا موقعہ اور محل ہو تو وہاں احسان کرو اور اگر احسان سے بڑھ کر قریبیوں کی طرح طبعی جوش
سے نیکی کرنے کا محل ہو تو وہاں طبعی ہمدردی سے نیکی کرو۔ اور اس سے خدا تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ تم حدود اعتدال سے آگے گزر جاؤ یا احسان کے بارے میں منکرانہ حالت تم سے صادر ہو جس
سے عقل انکار کرے یعنی یہ کہ تم بے محل احسان کر ویا بر محل احسان کرنے سے دریغ کرو۔ یا یہ کہ تم محل پر ایتاء ذی القربیٰ کے خلق میں کچھ کمی اختیار کرو یا حد سے زیادہ رحم کی بارش
کرو۔ اس آیت کریمہ میں ایصال خیر کے تین درجوں کا بیان ہے۔
اوّل یہ درجہ کہ نیکی کے مقابل پر نیکی کی جائے۔ یہ تو کم درجہ ہے اور ادنیٰ درجہ کا بھلامانس آدمی بھی یہ خلق حاصل کر سکتا
ہے کہ اپنے نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرتا رہے۔
دوسرا درجہ اس سے مشکل ہے اور وہ یہ کہ ابتداًء آپ ہی نیکی کرنا اور بغیر کسی کے حق کے احسان کے طور پر اس کو فائدہ پہنچانا اور
یہ خلق اوسط درجہ کا ہے۔ اکثر لوگ غریبوں پر احسان کرتے ہیں اور احسان میں یہ ایک مخفی عیب ہے کہ احسان کرنے والا خیال کرتا ہے کہ میں نے احسان کیا ہے اور کم سے کم وہ اپنے احسان کے
عوض میں شکریہ یا دعا چاہتا ہے اور اگر کوئی ممنون منت اس کا مخالف ہو جائے تو اس کا نام احسان فراموش رکھتا ہے۔ بعض وقت اپنے احسان کی وجہ سے اس پر فوق الطاقت بوجھ ڈال دیتا ہے اور
اپنا احسان اس کو یاد دلاتا ہے جیسا کہ احسان کرنے والوں کو خدا تعالیٰ متنبہ کرنے کے لئے فرماتا ہے۔