ایصالِ خیر کے اقسام
اب ترکِ شر کے اقسام ختم ہو چکے۔ اور اب ہم ایصالِ خیر کے اقسام بیان کرتے ہیں۔ دوسری قسم ان
اخلاق کی جو ایصال خیر سے تعلق رکھتے ہیں۔
پہلا خلق ان میں سے عفوہے۔ یعنی کسی کے گناہ کو بخش دینا۔ اس میں ایصال خیر یہ ہے کہ جو گناہ کرتا ہے وہ ایک ضرر پہنچاتا ہے اور اس لائق
ہوتا ہے کہ اس کو بھی ضرر پہنچایا جائے۔ سزا دلائی جائے۔ قید کرایا جائے۔ جرمانہ کرایا جائے یا آپ ہی اس پر ہاتھ اٹھایا جائے۔ پس اس کو بخش دینا اگر بخش دینا ‘مناسب ہو تو اس کے حق میں
ایصال خیر ہے۔ اس میں قرآن شریف کی تعلیم یہ ہے۔
یعنی نیک آدمی وہ ہیں جو غصہ کھانے کے محل پر اپنا غصہ کھا جاتے ہیں اور بخشنے کے محل پر گناہ کو بخشتے ہیں۔ بدی کی جزا اسی قدر
بدی ہے جو کی گئی ہو۔ لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقعہ پر بخشے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو۔ کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو۔ یعنی عین عفو کے محل پر ہو۔ نہ غیر محل پر تو اس کا
وہ بدلہ پائے گا۔
اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خواہ نخواہ اور ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے اور شریروؔ ں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے۔ بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا
چاہئے کہ وہ محل اور موقعہ گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کاہے۔ پس مجرم کے حق میں اور نیز عامہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الواقعہ بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔ بعض وقت ایک
مجرم گناہ بخشنے سے توبہ کرتا ہے۔* اور بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے اور بھی دلیر ہو جاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اندھوں کی طرح صرف گناہ بخشنے کی عادت مت ڈالو۔ بلکہ
غور سے دیکھ لیا کرو۔ کہ حقیقی نیکی کس بات میں ہے