چوتھی قسم ترک شر کی اخلاق میں سے رفق اور قول حسن ہے اور یہ خلق جس حالت طبعی سے پیدا ہوتا ہے اس کا نام طلاقت
یعنی کشادہ روئی ہے۔ بچہ جب تک کلام کرنے پر قادرؔ نہیں ہوتا۔ بجائے رفق اور قول حسن کے طلاقت دکھلاتا ہے۔ یہی دلیل اس بات پر ہے کہ رفق کی جڑھ جہاں سے یہ شاخ پیدا ہوتی ہے طلاقت ہے۔
طلاقت ایک قوت ہے اور رِفق ایک خلق ہے جو اس قوت کو محل پر استعمال کرنے سے پیدا ہو جاتا ہے۔ اس میں خدا تعالیٰ کی تعلیم یہ ہے۔
ترجمہ۔ یعنی لوگوں کو وہ باتیں کہو جو واقعی طور پر نیک
ہوں۔ ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے ہو سکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا ہے وہی اچھے ہوں۔ بعض عورتیں بعض عورتوں سے ٹھٹھا نہ کریں ہو سکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیاہے وہی اچھی
ہوں اور عیب مت لگاؤ۔ اپنے لوگوں کے برے برے نام مت رکھو۔ بدگمانی کی باتیں مت کرو اور نہ عیبوں کو کرید کرید کر پوچھو ۔ایک دوسرے کا گلہ مت کرو۔ کسی کی نسبت وہ بہتان یا الزام مت لگاؤ
جس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں اور یاد رکھو کہ ہریک عضو سے مواخذہ ہوگا اور کان، آنکھ، دل ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔