اچھی چیزوں کے عوض میں خبیث اور ردّی چیزیں نہ دیا کرو یعنی جس طرح دوسروں کا مال دبا لینا ناجائز ہے اسی طرح خراب چیزیں بیچنا یا اچھی کے عوض بری دینا بھی ناجائز ہے۔ ان تمام آیات میں خدا تعالیٰ نے تمام طریقے بددیانتی کے بیان فرما دئیے۔ اور ایسا کلام کلّی کے طور پر فرمایا جس میں کسی بددیانتی کا ذکر باہر نہ رہ جائے۔ صرف یہ نہیں کہا کہ تو چوری نہ کر تا ایک نادان یہ نہ سمجھ لے کہ چوری تو میرے لئے حرام ہے مگر دوسرے ناجائز طریقے سب حلال ہیں۔ اس کلمہ جامع کے ساتھ تمام ناجائز طریقوں کو حرام ٹھہرانا یہی حکمت بیانی ہے۔ غرض اگر کوئی اس بصیرت سے دیانت اور امانت کا ُ خلق اپنے اندر نہیں رکھتا اور ایسے تمام پہلوؤں کی رعایت نہیں کرتا وہ اگر دیانت و امانت کو بعض امور میں دکھلائے بھی تو یہ حرکت اس کی ُ خلق دیانت میں داخل نہیں سمجھی جائے گی بلکہ ایک طبعی حالت ہوگی جو عقلی تمیز اور بصیرت سے خالی ہے۔ تیسری قسم ترک شر کی اخلاق میں سے وہ قسم ہے کہ جس کو عربی میں ھُدنہ اور ھَون کہتے ہیں یعنی دوسرے کو ظلم کی راہ سے بدنی آزار نہ پہنچانا اور بے شر انسان ہونا اور صلح کاری کے ساتھ زندگی بسر کرنا۔ پس بلاشبہ صلحکاری اعلیٰ درجہ کا ایک خلق ہے اور انسانیت کے لئے ازبس ضروری۔ اور اس خلق کے مناسب حال طبعی قوت جو بچہ میں ہوتی ہے جس کی تعدیل سے یہُ خلق بنتا ہے الفت یعنی خوگرفتگی ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان صرف طبعی حالت میں یعنی اس حالت میں کہ جب انسان عقل سے بے بہرہ ہو صلح ؔ کے مضمون کو سمجھ نہیں سکتا اور نہ جنگ جوئی کے مضمون کو سمجھ سکتا ہے۔ پس اس وقت جو ایک عادت موافقت کی اس میں پائی جاتی ہے وہی صلحکاری کی عادت کی ایک جڑھ ہے لیکن چونکہ وہ عقل اور تدّ بر اور خاص ارادہ سے اختیار نہیں کی جاتی اس لئے خلق میں داخل نہیں بلکہ خلق میں تب داخل ہوگی کہ جب انسان بالارادہ اپنے تئیں بے شر بنا کر صلح کاری کے خلق کو اپنے محل پر استعمال کرے اور بے محل استعمال کرنے سے مجتنب رہے۔ اس میں اللہ جلّ شانہٗیہ تعلیم