بھی ایسا کرو اور پھر فرمایا کہ جب تم یتیموں کو مال واپس کرنے لگو تو گواہوں کے روبرو ان کو ان کا مال دو اور جو شخص
فوت ہونے لگے اور بچے اس کے ضعیف اور صغیر السِنّ ہوں تو اس کو نہیں چاہئے کہ کوئی ایسی وصیت کرے کہ جس میں بچوں کی حق تلفی ہو۔ جو لوگ ایسے طور سے یتیم کا مال کھاتے ہیں جس
سے یتیم پر ظلم ہو جائے تو وہ مال نہیں بلکہ آگ کھاتے ہیں اور آخر جلانے والی آگ میں ڈالے جائیں گے۔
اب دیکھو خدا تعالیٰ نے دیانت اور امانت کے کس قدر پہلو بتلائے۔ سو حقیقی دیانت اور
امانت وہی ہے جو ان تمام پہلوؤں کے لحاظ سے ہو اور اگر پوری عقلمندی کو دخل دے کر امانتداری میں تمام پہلوؤں کا لحاظ نہ ہو تو ایسی دیانت اور امانت کئی طور سے چھپی ہوئی خیانتیں اپنے ہمراہ
رکھے گی۔ اور پھر دوسری جگہ فرمایا۔
یعنی آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناجائز طور پر مت کھایا کرو اور نہ اپنے مال کو رشوت کے طور پر حکام تک پہنچایا کرو۔ تا اس طرح پر حکام کی
اعانت سے دوسرے کے مالوں کو دبالو۔ امانتوں کو انکے حقداروں کو واپس دے دیا کرو۔ خدا خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ جب تم ماپو تو پورا ماپو ۔جب تم وزن کرو تو پوری اور بے خلل
ترازو سے وزن کرو اور کسی طور سے لوگوں کو ان کے مال کا نقصان نہ پہنچاؤ اور فساد کی نیت سے زمین پر مت پھرا کرو یعنی اس نیت سے کہ چوری کریں یا ڈاکہ ماریں یا کسی کی جیب کتریں یا
کسی اور ناجائز طریق سے بیگانہ مال پر قبضہ کریں اور پھر فرمایا کہ تم