کی خدمت کرنا چاہتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو رحم بولتے ہیں اور کبھی انسان اپنے ہاتھوں
کے ذریعہ سے ظالم کو سزا دیتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر ایک قوت ہے جس کو انتقام کہتے ہیں اور کبھی انسان حملہ کے مقابل پر حملہ کرنا نہیں چاہتا اور ظالم کے ظلم سے درگزر کرتا ہے
اور اس حرکت کے مقابل پر دل۱ میں ایک قوت ہے جس کوعفو اور صبر کہتے ہیں اور کبھی انسان بنی نوع کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے ہاتھوں سے کام لیتا ہے یا پیروں سے یا دل اور دماغ سے اور
ان کی بہبودی کیلئے اپنا سرمایہ خرچ کرتا ہے تو اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو سخاوت کہتے ہیں۔ پس جب انسان ان تمام قوتوں کو موقع اور محل کے لحاظ سے استعمال کرتا ہے
تو اس وقت ان کا نامُ خلق رکھا جاتا ہے۔ اللہ جلشانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔
۳؍۲۹ ۲
یعنی تو ایک بزرگُ خلق پر قائم ہے۔ سو اسی تشریح کے مطابق اس
کے معنے ہیں یعنی یہ کہ تمام قسمیں اخلاق کی سخاوت، شجاعت، عدل، رحم، احسان، صدق، حوصلہ وغیرہ تجھ میں جمع ہیں۔ غرض جس قدر انسان کے دل میں قوتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ادب، حیا،
دیانت، مروت، غیرت، استقامت، عفت، زہادت، اعتدال، مؤاسات یعنی ہمدردی۔ ایسا ہی شجاعت، سخاوت، عفو، صبر، احسان، صدق، وفا وغیرہ جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تد ّ بر کے مشورہ سے
اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہوگا ۔اور یہ تمام اخلاق درحقیقت انسان کی طبعی حالتیں اور طبعی جذبات ہیں اور صرف اس وقت اخلاق کے نام سے موسوم ہوتے ہیں
کہ جب محل اور موقعہ کے لحاظ سے بالارادہ ان کو استعمال کیا جائے۔ چونکہ انسان کے طبعی خواص میں سے ایک یہ بھی خاصہ ہے کہ وہ ترقی پذیر جاندار ہے اس لئے وہ سچے مذہب کی پیروی
اور نیک صحبتوں اور نیک تعلیموں سے ایسے طبعی جذبات کو اخلاق کے رنگ میں لے