کو ؔ ایک خط مستقیم میں باہم رکھ دیا جاوے تو شاید ایک مسافر کی دو منزل طے کرنے تک بھی وہ دوکانیں ختم نہ ہوں۔ عبادات
سے فراغت ہے اور دن رات سوا عیاشی اور دنیا پرستی کے کام نہیں پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یسوع کے مصلوب ہونے سے اس پر ایمان لانے والے گناہ سے رک نہیں سکے *بلکہ جیسا
کہ بند ٹوٹنے سے ایک تیز دھار دریا کا پانی اردگرد کے دیہات کو تباہ کر جاتا ہے ایسا ہی کفارہ پر ایمان لانے والوں کا حال ہو رہا ہے اور میں جانتا ہوں کہ عیسائی لوگ اس پر زیادہ بحث نہیں کریں گے
کیونکہ جس حالت میں ان نبیوں کو جن کے پاس خدا کا فرشتہ آتا تھا یسوع کا کفارہ بدکاریوں سے روک نہ سکا تو پھر کیونکر تاجروں اور پیشہ وروں اور خشک پادریوں کو ناپاک کاموں سے روک سکتا ہے
غرض عیسائیوں کے خدا کی کیفیت یہ ہے جو ہم بیان کرچکے۔
تیسرا مذہب ان دومذہبوں کے مقابل پر جن کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں اسلام ہے اس مذہب کی خدا شناسی نہایت صاف صاف اور انسانی
فطرت کے مطابق ہے اگر تمام مذہبوں کی کتابیں نابود ہو کر ان کے سارے تعلیمی خیالات اور تصورات بھی محو ہو جائیں تب بھی وہ خدا جس کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے آئینہ قانون قدرت میں صاف
صاف نظر آئے گا اور اس کی قدرت اور حکمت سے بھری ہوئی صورت ہریک ذرّہ میں چمکتی ہوئی دکھائی دے گی۔ غرض وہ خدا جس کا پتہ قرآن شریف بتلاتا ہے اپنی موجودات پر فقط قہری حکومت
نہیں رکھتا بلکہ موافق آیۃ کریمہ ۱ کے ہریک ذرہ ذرہ اپنی طبیعت اور روحانیت سے اس کا حکم بردار ہے۔ اس کی طرف جھکنے کے لئے ہریک طبیعت میں ایک کشش پائی جاتی ہے اس کشش سے ایک
ذرہ بھی خالی نہیں اور یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ ہر یک چیز کا خالق ہے کیونکہ نور قلب اس بات کو مانتا ہے کہ وہ کشش جو اس کی طرف جھکنے کیلئے تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے وہ
بلاشبہ اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ قرآن شریف نے اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ۲ یعنی ہریک چیز اس کی پاکی اور اس کے محامد بیان کر رہی ہے اگر خدا ان چیزوں کا خالق
نہیں تھا تو ان چیزوں میں خدا کی طرف کشش کیوں پائی جاتی ہے