کہؔ وہ خود بھی نیک نہیں ہے مگر افسوس کہ تکبر کا سیلاب اس کی تمام حالت کو برباد کر گیا ہے کوئی بھلا آدمی گذشتہ بزرگوں کی مذمت نہیں کرتا لیکن اس نے پاک نبیوں کو رہزنوں اور بٹماروں کے نام سے موسوم کیا ہے اس کی زبان پر دوسروں کیلئے ہر وقت بے ایمان حرام کار کا لفظ چڑھا ہوا ہے کسی کی نسبت ادب کا لفظ استعمال نہیں کیا کیوں نہ ہو خدا کا فرزند جو ہوا۔ اور پھر جب دیکھتے ہیں کہ یسوع کے کفارہ نے حواریوں کے دلوں پر کیا اثر کیا کیا وہ اس پر ایمان لا کر گناہ سے باز آگئے تو اس جگہ بھی سچی پاکیزگی کا خانہ خالی ہی معلوم ہوتا ہے یہ تو ظاہر ہے کہ وہ لوگ سولی ملنے کی خبر کو سن کر ایمان لا چکے تھے لیکن پھر بھی نتیجہ یہ ہوا کہ یسوع کی گرفتاری پر پطرس نے سامنے کھڑے ہوکر اس پر *** بھیجی باقی سب بھاگ گئے اور کسی کے دل میں اعتقاد کا نور باقی نہ رہا۔ پھر بعد اس کے گناہ سے رکنے کا اب تک یہ حال ہے کہ خاص یورپ کے محققین کے اقراروں سے یہ بات ثابت ہے کہ یورپ میں حرام کاری کا اس قدر زور ہے کہ خاص لنڈن میں ہر سال ہزاروں ّ*** بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس قدر گندے واقعات یورپ کے شائع ہوئے ہیں کہ کہنے اور سننے کے لائق نہیں شراب خوری کا اس قدر زور ہے کہ اگر ان دوکانوں بقیہ حاشیہ۔ کہ جن لوگوں کو شیطان کا سخت آسیب ہو جاتا ہے اور شیطان ان سے محبت کرنے لگتا ہے تو گو ان کی اپنی مرگی وغیرہ اچھی نہیں ہوتی مگر دوسروں کو اچھا کر سکتے ہیں کیونکہ شیطان ان سے محبت کرتا ہے اور ان سے جدا ہونا نہیں چاہتا مگر نہایت محبت کی وجہ سے ان کی باتیں مان لیتا ہے اور دوسروں کو ان کی خاطر سے شیطانی مرضوں سے نجات دیتا ہے اور ایسے عامل ہمیشہ شراب اور پلید چیزیں استعمال کرتے رہتے ہیں اور اول درجہ کے شرابی اور کھاؤ پیو ہوتے ہیں چنانچہ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ ایک شخص اسی طرح مرض بیہوشی میں گرفتار تھا اور کہتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے جنات کو نکال دیا کرتا تھا غرض یسوع کا یہ واقعہ شیطان کے ہمراہ کا مرض صرع پر صاف دلیل ہے اور ہمارے پاس کئی وجوہ ہیں جن کے مفصل لکھنے کی ابھی ضرورت نہیں اور یقین ہے کہ محقق عیسائی جو پہلے ہی ہماری اس رائے سے اتفاق رکھتے ہیں انکار نہیں کریں گے اور جو نادان پادری انکار کریں تو ان کو اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ یسوع کا شیطان کے ہمراہ جانا درحقیقت بیداری کا ایک واقعہ ہے۔* اور صرع وغیرہ کے لحوق کا نتیجہ نہیں مگر ثبوت میں معتبر گواہ پیش کرنے چاہئیں جو رویت کی گواہی دیتے ہوں اور معلوم ہوتا ہے کہ کبوتر کا اترنا اور یہ کہنا کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے درحقیقت یہ بھی ایک مرگی کا ایک دورہ تھا جس کے ساتھ ایسے تخیلات پیدا ہوئے بات یہ ہے کہ کبوتر کا رنگ سفید ہوتا ہے اور بلغم کا رنگ بھی سفید ہوتا ہے اور مرگی کا مادہ بلغم ہی ہوتا ہے سو وہ بلغم کبوتر کی شکل پر نظر آگئی اور یہ جو کہا کہ تو میرا بیٹا ہے اس میں بھید یہ ہے کہ درحقیقت مصروع مرگی کا بیٹا ہی ہوتا ہے اسی لئے مرگی کو فن طبابت میں ام الصبیان کہتے ہیں یعنی بچوں کی ماں۔ اور ایک مرتبہ یسوع کے چاروں حقیقی بھائیوں نے اس وقت کی گورنمنٹ میں درخواست بھی دی تھی کہ یہ شخص دیوانہ ہوگیا ہے اس کا کوئی بندوبست کیا جاوے یعنی عدالت کے جیل خانہ میں داخل کیا جاوے تاکہ وہاں کے دستور کے موافق اس کا علاج ہو تو یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیا تھا۔ منہ