نہ ؔ یسوع کے کفارہ پر ایمان لانے نے بدکاریوں سے اس کو روکا آخر انہی بدعملیوں میں جان دی اور اس سے عجیب تر یہ کہ یہ کفارہ یسوع کی دادیوں اور نانیوں کو بھی بدکاری سے نہ بچا سکا حالانکہ ان کی بدکاریوں سے یسوع کے گوہر فطرت پر داغ لگتا تھا۔ اور یہ دادیاں نانیاں صرف ایک دو نہیں بلکہ تین ہیں۔ چنانچہ یسوع کی ایک بزرگ نانی جو ایک طور سے دادی بھی تھی یعنی راحاب کسبی یعنی کنجری تھی دیکھو یشوع ۲۔۱)اور دوسری نانی جو ایک طور سے دادی بھی تھی اس کا نام تمر ہے یہ خانگی بدکار عورتوں کی طرح حرامکار تھی دیکھو پیدائش ۳۸۔۱۶ سے ۳۰ اور ایک نانی یسوع صاحب کی جو ایک رشتہ سے دادی بھی تھی بنت سبع کے نام سے موسوم ہے یہ وہی پاکدامن تھی جس نے داؤد کے ساتھ زنا کیا تھا*دیکھو ۲ سموئیل ۱۱۔۲ اب ظاہر ہے کہ ان دادیوں اور نانیوں کو یسوع کے کفارہ کی ضرور اطلاع دی گئی ہوگی اور اس پر ایمان لائی ہوں گی کیونکہ یہ تو عیسائیوں کا اصول ہے کہ پہلے نبیوں اور ان کی امت کو بھی یہی تعلیم کفارہ کی دی گئی تھی اور اسی پر ایمان لا کر ان کی نجات ہوئی پس اگر یسوع کے مصلوب ہونے کا یہ اثر سمجھا جائے کہ اس کی مصلوبیت پر ایمان لاکر گناہ سے انسان بچ جاتا ہے تو چاہئے تھا کہ یسوع کی دادیاں اور نانیاں زناکاریوں اور حرامکاریوں سے بچائی جاتیں مگر جس حالت تمام پیغمبر باوجودیکہ بقول عیسائیاں یسوع کی خودکشی پر ایمان لاتے تھے۔ بدکاریوں سے نہ بچ سکے اور نہ یسوع کی دادیاں نانیاں بچ سکیں تو اس سے صاف طور پر ثابت ہوگیا کہ یہ جھوٹا کفارہ کسی کو نفسانی جذبات سے بچا نہیں سکتا اور خود مسیح کو بھی بچا نہ سکا۔ ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ میری والدہ سے لیکر حوّا تک میری ماؤں کے سلسلہ میں کوئی عورت بدکار اور زانیہ نہیں اور نہ مرد زانی اور بدکار ہے لیکن بقول عیسائیوں کے ان کے خدا صاحب کی پیدائش میں تین زنا کار عورتوں کا خون ملا ہوا ہے حالانکہ توریت میں جو کچھ زانیہ عورتوں کی اولاد کی نسبت لکھا ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں۔ منہ