میرؔ ی اطلاع نہ دینا کسی اور بہانہ سے مانگ لینا قصہ کوتاہ یہ کہ آخر زیور لے کر اپنی راہ لیتے ہیں اور وہ دیوانے دہ
۱۰چند کی خواہش کرنے والے اپنی جان کو روتے رہ جاتے ہیں یہ اس طمع کی شامت ہوتی ہے جو قانون قدرت سے غفلت کر کے انتہا تک پہنچائی جاتی ہے مگر میں نے سنا ہے کہ ایسے ٹھگوں کو یہ
ضرور ہی کہنا پڑتا ہے کہ جس قدر ہم سے پہلے آئے یا بعد میں آویں گے یقیناًسمجھو کہ وہ سب فریبی اور بٹ مار اور ناپاک اور جھوٹے اور اس نسخہ سے بیخبر ہیں۔ ایسا ہی عیسائیوں کی پٹری بھی
جم نہیں سکتی جب تک کہ حضرت آدم سے لے کر اخیر تک تمام مقدس نبیوں کو پاپی اور بدکانہ نہ بنالیں۔*
(۲) دوسری صورت اس قابل رحم بیٹے کے مصلوب ہونے کی یہ ہے کہ اس کے سولی
ملنے کی یہ علّت غائی قرار دی جائے کہ اس کی سولی پر ایمان لانے والے ہریک قسم کے گناہ اور بدکاریوں سے بچ جائیں گے اور ان کے نفسانی جذبات ظہور میں نہ آنے پائیں گے مگر افسوس کہ
جیسا کہ پہلی صورت خلاف تہذیب اور بدیہی البطلان ثابت ہوئی تھی ایسا ہی یہ صورت بھی کھلے کھلے طور پر باطل ہی ثابت ہوئی ہے کیونکہ اگر فرض کیا جائے کہ یسوع کا کفارہ ماننے میں ایک
ایسی خاصیت ہے کہ اس پر سچا ایمان لانے والا فرشتہ سیرت بن جاتا ہے اور پھر بعدازاں اس کے دل میں گناہ کا خیال ہی نہیں آتا تو تمام گذشتہ نبیوں کی نسبت کہنا پڑے گا کہ وہ یسوع کی سولی اور
کفارہ پر سچا ایمان نہیں لائے تھے کیونکہ انہوں نے تو بقول عیسائیاں بدکاریوں میں حد ہی کردی کسی نے ان میں سے بت پرستی کی اورکسی نے ناحق کا خون کیا اور کسی نے اپنی بیٹیوں سے بدکاری
کی اور بالخصوص یسوع کے دادا صاحب داؤد نے تو سارے ُ برے کام کئے ایک بیگناہ کو اپنی شہوت رانی کیلئے فریب سے قتل کرایا اور دلالہ عورتوں کو بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا اور اس کو
شراب پلائی اور اس سے زنا کیا اور بہت سا مال حرام کاری میں ضائع کیا اور تمام عمر سو۱۰۰ تک بیوی رکھی۔ اور یہ حرکت بھی بقول عیسائیاں زنا میں داخل تھی اور عجیب تر یہ کہ روح القدس
بھی ہر روز اس پر نازل ہوتا تھا اور زبور بڑی سرگرمی سے اتر رہی تھی مگر افسوس کہ نہ تو روح القدس نے اور