اورؔ صفات قدیمہ کے تجلیات قدیمہ کی وجہ سے کبھی ایک عالم مکمن عدم میں مختفی ہوتا چلا آیا ہے اور کبھی دوسرا عالم
بجائے اس کے ظاہر ہوتا رہا ہے اور اس کا شمار کوئی بھی نہیں کر سکتا کہ کس قدر عالموں کو خدا نے اس دنیا سے اٹھا کر دوسرے عالم بجائے اس کے قائم کئے چنانچہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں
یہ فرما کر کہ ہم نے آدم سے پہلے جان کو پیدا کیا تھا اسی قدامت نوع عالم کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ لیکن عیسائیوں نے باوجود بدیہی ثبوت اس بات کے کہ قدامت نوع عالم ضروری ہے پھر اب تک
کوئی ایسی فہرست پیش نہیں کی جس سے معلوم ہو کہ ان غیر محدود عالموں میں جو ایک دوسرے سے بالکل بے تعلق تھے کتنی مرتبہ خدا کا فرزند سولی پر کھینچا گیا کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ بموجب
اصول عیسائی مذہب کے کوئی شخص بجز خدا کے فرزند کے گناہ سے خالی نہیں پس اس صورت میں تو یہ سوال ضروری ہے کہ وہ مخلوق جو ہمارے اس آدم سے بھی پہلے گزر چکی ہے جن کا ان
بنی آدم کے سلسلہ سے کچھ تعلق نہیں ان کے گناہ کی معافی کا کیا بندوبست ہوا تھا اور کیا یہی بیٹا ان کو نجات دینے کیلئے پہلے بھی کئی مرتبہ پھانسی مل چکا ہے یا وہ کوئی دوسرا بیٹا تھا جو پہلے
زمانوں میں پہلی مخلوق کیلئے سولی پر چڑھتا رہا جہاں تک ہم خیال کرتے ہیں ہمیں تو یہ سمجھ آتا ہے کہ اگر صلیب کے بغیر گناہوں کی معافی نہیں تو عیسائیوں کے خدا کے بے انتہا اور اَنْ گنت بیٹے
ہوں گے جو وقتًافوقتًا ان معرکوں میں کام آئے ہوں گے اور ہریک اپنے وقت پر پھانسی ملا ہوگا پس ایسے خدا سے کسی بہبودی کی امیدر کھنا لاحاصل ہے جس کے خود اپنے ہی نوجوان بچے مرتے رہے۔
228
امرت سر کے مباحثہ میں بھی ہم نے یہ سوال کیا تھا کہ عیسائی یہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کا خدا کسی کو گناہ میں ہلاک کرنا نہیں چاہتا پھر اس صورت میں ان پر یہ اعتراض ہے کہ اس خدا
نے ان شیاطین کی پلید روحوں کی نجات کیلئے کیا بندوبست کیا جن پلید روحوں کا ذکر انجیل میں موجود ہے* کیا کوئی ایسا بیٹا بھی دنیا میں آیا۔ جس نے شیاطین کے گناہوں کے
* نوٹ۔ اسلامی
تعلیم سے ثابت ہے کہ شیاطین بھی ایمان لے آتے ہیں چنانچہ ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے