مریم ؔ بنت یعقوب کے پیٹ سے جنم لیا مگر ہندوؤں کے خدا بشن نے نو مرتبہ دنیا کے گناہ دور کرنے کیلئے تولد کا داغ اپنے
لئے قبول کرلیا خصوصاً آٹھویں مرتبہ کا جنم لینے کا قصہ نہایت دلچسپ بیان کیا جاتا ہے چنانچہ کہتے ہیں کہ جب زمین دیئتوں کی طاقت سے مغلوب ہوگئی تو بشن نے آدھی رات کو کنواری لڑکی کے
پیٹ سے پیدا ہوکر اوتار لیا اور جو پاپ دنیا میں پھیلے ہوئے تھے ان سے لوگوں کو چھوڑایا۔ یہ قصہ اگرچہ عیسائیوں کے مذاق کے موافق ہے مگر اس بات میں ہندوؤں نے بہت عقلمندی کی کہ
عیسائیوں کی طرح اپنے اوتاروں کو سولی نہیں دیا اور نہ ان کے *** ہونے کے قائل ہوئے۔ قرآن شریف کے بعض اشارات سے نہایت صفائی کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو خدا بنانے کے موجد
پہلے آریہ ورت کے برہمن ہی ہیں اور پھر یہی خیالات یونانیوں نے ہندوؤں سے لئے آخر اس مکروہ اعتقاد میں ان دونوں قوموں کے فضلہ خوار عیسائی بنے۔ اور ہندوؤں کو ایک اور بات دور کی سوجھی
جو عیسائیوں کو نہیں سوجھی اور وہ یہ کہ ہندو لوگ خدائے ازلی ابدی کے قدیم قانون میں یہ بات داخل رکھتے ہیں کہ جب کبھی دنیا گناہ سے بھر گئی تو آخر ان کے پرمیشر کو یہی تدبیر خیال میں آئی
کہ خود دنیا میں جنم لے کر لوگوں کو نجات دیوے اور ایسا واقعہ صرف ایک دفعہ نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ ضرورت کے وقتوں میں ہوتا رہا لیکن گو عیسائیوں کا یہ تو عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ قدیم ہے اور
گذشتہ زمانہ کی طرف خواہ کیسے ہی اُ وپر سے اوپر چڑھتے جائیں اس خدا کے وجود کا کہیں ابتداء نہیں اور قدیم سے وہ خالق اور رب العالمین بھی ہے لیکن وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ وہ ہمیشہ
سے اور غیر متناہی زمانوں سے اپنے پیارے بیٹوں کو لوگوں کیلئے سولی پر چڑھاتا رہا ہے بلکہ کہتے ہیں کہ یہ تدبیر ابھی اس کو کچھ تھوڑے عرصہ سے ہی سوجھی ہے اور ابھی بڈھے باپ کو یہ
خیال آیا ہے کہ بیٹے کو سولی دلا کر دوسروں کو عذاب سے بچاوے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اس بات کے ماننے سے کہ خدا قدیم اور ابد الآباد سے چلا آتا ہے یہ دوسری بات بھی ساتھ ہی ماننی پڑتی ہے کہ
اس کی مخلوقات بھی بحیثیت قدامت نوعی ہمیشہ سے ہی چلی آئی ہے