پھیرؔ ہندواں اک چادر لیکے ببان میں رکھ کے چکھا میں جلائی تے مسلماناں
پھر ہندوؤں نے ایک چادر لے کر اور سیڑھی
پر رکھ کر چکھا میں جلا دی اور مسلمانوں
ادھی چادر دفن کیتی۔ دوہاں آپو اپنے دھرم کرم کیتے۔ تے
نے نصف چادر لے کر دفن کر دی اور دونوں فریق نے اپنی اپنی رسم کے موافق تجہیز تکفین کی
یعنی
بابا جی بیکنٹھ کو سن دھے گئے۔ تے سری بابے جی دے چلانے
اپنے مذہبی واجبات جنازہ وغیرہ بجالائے اور باوا صاحب معہ جسم کے بہشت میں داخل ہوگئے* اور ایک سکھ نے جس
کا
کی کتھا بڈھے نے سری انگد جی تے بالے کی ہور سنگت کے حضور سنائی
نام بڈھا تھا باوانانک صاحب کے فوت ہونے کی کتھا انگد صاحب اور بالا صاحب اور دوسرے مجمع کے حضور
سنائی
دیکھو جنم ساکھی کلاں بھائی بالے والی صفحہ ۶۱۷
باوا نانک صاحب کے اسلام پر اسلام کے مخالفوں کی شہادتیں
برگ صاحب ترجمہ سیر المتأخرین جلد اول صفحہ ۱۱۰ کے ایک نوٹ
میں لکھتے ہیں کہ بابا نانک نے اپنی ابتدائی عمر میں ایک اسلامی معلم سے تعلیم پائی اور ایک شخص سید حسین نام نے بابا نانک کی ایام
یہ تعلیم بالکل قرآن شریف کی تعلیم ہے کہ جسم کے ساتھ انسان
بہشت میں داخل ہوگا لیکن وید کی تعلیم بالکل اس کے برخلاف ہے کیونکہ وید کی رو سے صرف روح کو مکتی ملتی ہے اور جسم مکتی خانہ میں داخل نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے ہندو لوگ جسم کو جلا
دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس کا تعلق مرنے کے ساتھ بالکل ختم ہو جاتا ہے لیکن مسلمان اپنے ُ مردوں کو دفن کرتے ہیں۔ کیونکہ اسلامی تعلیم کے رو سے جسم کا روح سے تعلق باقی رہتا ہے اور وہ
ابدی تعلق ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگا اسی تعلق کی وجہ سے بہشت میں بہشتیوں کا جسم لذت میں شریک ہو جائے گا اور دوزخ میں دوزخیوں کا جسم عذاب میں شریک ہوگا اور باوا صاحب نے جو
مسلمانوں کی مقابر پر چلہ کشی کی یہ بھی صاف دلیل اس بات پر ہے کہ باوا صاحب اس تعلق کو مانتے اور قبول کرتے تھے۔ منہ