تاںؔ ہندو مسلماناں دا جھگڑا ودھ گیا۔ ہندو کہن نہیں دیکھنے دیناں تاں مسلمان
تب ہندو مسلمانوں کا جھگڑا بڑھ گیا ہندو
کہتے تھے کہ ہم باوا صاحب کو دیکھنے نہیں دیں گے اور مسلمان
کہن اساں دیدار کرناں ہے ۔ جاں بہت واد ہوا۔ پٹھان کہن گور منزل کراں گے
کہتے تھے کہ ہم نے دیدار کرنا ہے جب بہت فساد
ہوا تب پٹھانوں نے کہا کہ ہم تجہیز تکفین اور جنازہ
تاں وچہ بھلے لوکاں کہیا اندر چل کے دیکھو تاں سہی جاں دیکھیا تاں
وغیرہ سب رسوم اسلام ادا کریں گے تب اچھے لوگوں نے درمیان ہوکر
کہا کہ ذرا اندر چل کے تو دیکھو جب اندر جا کر دیکھا تو
چادر ہی ہے۔ بابے دی دِہ ہے نہیں دوہاں دا جھگڑا چک گیا۔ جتنے
معلوم ہوا کہ فقط چادر ہی پڑی ہے جسم نہیں ہے تب دونوں گروہ کا
جھگڑا فیصلہ ہوگیا جس قدر
سکھ سیوک تھے سب رام رام کر اوٹھے لگے صفتاں کرن واہ باباجی توں دھن
سکھ مرید تھے سب اللہ اللہ کر اٹھے اور صفتیں کرتے تھے کہ واہ باوا صاحب آپ
دھن
ہیں۔ سب کہن سری نانک جی پر تکہیا پرمیشر دی مورت سی۔ ان کی قدرت
ہیں سب کہتے تھے کہ نانک صاحب ظاہر ظاہر مظہر الٰہی تھے ان کی قدرت لکھی
لکھی نہیں سی جاندی تے
اساں سیوا بھی ناکیتی۔تے مسلمان بھی
نہیں جاتی اور ہم نے کچھ خدمت نہ کی اور مسلمان بھی
بابے دا کھیل دیکھ کر لگے صفتاں کرن۔ دھن خدائے ہے تے دھن بابا نانک
باوا صاحب کا یہ کام
دیکھ کر تعریف کرن لگے کہ کیا ہی وہ قادر خدا ہے اور کیا ہی اچھا باوا
جی ہے جسدی قدرت لکھی نہیں گئی۔ ہندو مسلمان سب تارے ہیں
نانک تھا جس کی قدرت لکھی نہیں گئی سب ہندو مسلمانوں
کو اس نے تار دیا
بقیہ نوٹ۔ دھوکا لگا ہو اور باوا صاحب کے اندرونی حالات کا ان کو اصل پتہ نہ ہو مگر جو مسلمان اپنے مذہب کے متعصب مرید ہوئے تھے اگر وہ باوا صاحب کو ہندو سمجھتے تو
ان کے ہرگز مرید نہ ہوتے اور اگر مرید ہوتے تو اسلام سے دست بردار ہو جاتے لیکن ان کا دفن اور جنازہ کیلئے جھگڑنا اس بات پر پختہ دلیل ہے کہ وہ باوا صاحب کو مسلمان ہی سمجھتے تھے اور
خود بھی اسلام پر قائم اور مضبوط تھے اگر مرشد اسلام کو برا جانتا ہے تو مرید اسلام پر کیونکر قائم رہ سکتا ہے بلکہ یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خود باوا صاحب نے ان کو سمجھا رکھا تھا کہ تم
نے ضرور جنازہ پڑھنا۔ منہ