ہمیںؔ بہشت میں داخل ہونے کیلئے آپ ہی سب توفیق بخشی آپ ہی ایمان بخشا آپ ہی نیک عمل کرائے آپ ہی ہمارے دلوں کو
پاک کیا اگر وہ خود مدد نہ کرتا تو ہم آپ تو کچھ بھی چیز نہ تھے اور پھر فرماتا ہے ۱ یعنی یہ دعا کرو کہ ہم تیری پرستش کرتے ہیں اور تجھ سے ان تمام باتوں میں مدد چاہتے ہیں سو یہ تمام اشارے
نیستی اور تذلل کی طرف ہیں۔ تا انسان اپنے تئیں کچھ چیز نہ سمجھے۔
اس وقت باوانانک صاحب کے ایک دو شعر اور مجھے یاد آگئے جن میں انہوں نے کسر نفسی کے ساتھ جناب الٰہی میں مناجات
کی ہے جیسا کہ وہ گرنتھ صاحب میں فرماتے ہیں۔
اسی بول وگاڑ وگاڑیں بول توں نظری اندر تولیں تول
یعنی ہم بکواسی لوگ ہیں بات بگاڑ لیتے ہیں تو اپنی نظر کے اندر وزن کرلیتا ہے پھر ایک جگہ
باوا صاحب فرماتے ہیں۔
توں بھرپور جانیاں میں دور جو کچھ کرے سو تیرے حضور
یعنی توں ہرجگہ ہے مگر میں نے دور خیال کیا۔ جو کچھ کریں سو تیرے حضور میں کرتے ہیں۔ پھر ایک جگہ
کہتے ہیں۔
توں دیکھیں ہم مکرّ پاؤ تیرے کم نہ تیرے ناؤ
یعنی تو دیکھ رہا ہے اور ہم اپنے ُ برے کاموں سے منکر ہوتے ہیں نہ تیرے حکم پر چلتے ہیں اور نہ تیرا نام لیتے ہیں۔ اب کیا یہ خیال کیا
جائے کہ نانک صاحب درحقیقت ایسے کلمے منہ پر لایا کرتے تھے جن سے بات بگڑ جاتی تھی اور نیز خدا تعالیٰ کو دور خیال کرتے تھے اور اپنے ُ برے کاموں کو چھپایا کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کے
حکم پر نہیں چلتے تھے اور نہ اُس کا نام لیتے تھے ایسا ہی باوا نانک صاحب گرنتھ کے صفحہ ۲۱۹ میں فرماتے ہیں۔
واہ واہ ساچے میں تیری ٹیک ہوں پاپی توں نرمل ایک
یعنی اے سچے مجھے
تیرا آسرا ہے میں سخت بدکار ہوں اور تو بے عیب ہے۔ اور پھر فرماتے ہیں۔
شب روز گشتم در ہوا کردم بدی خیال گاہے نہ نیکی کار کردم مم این چنین احوال
بدبخت ہمچو بخیل غافل بے نظر بے
باک نانک بگوید جن ترا تیرے چاکران پا خاک