ہیںؔ اور ہرگز ان کا یہ مذہب نہیں چنانچہ ہمارے اس دعوے پر ان کے دوسرے شعر گواہ ہیں اور یہ شعر بھی تو گرنتھ
صاحب میں اب تک موجود ہے سکھ داتا گورسینوئیں سب اوگن کڈھے دھو یعنی آرام کے دینے والے خدا کو پوجنا چاہئے جو تمام بد اعمالیوں کو نکال کر دھو ڈالنا ہے۔ پھر یہ شعر بھی گرنتھ صاحب میں
ہے۔
جن کیتا تسے نجانئے من مکھ پس ناپاک گن گوبند نت گاوئین اوگن کٹن ہار
یعنی اگر اپنے پیدا کرنے والے کو نہ جانیں تو منہ دل دونوں پلید ہیں اور اگر خدا تعالیٰ کی صفت ثنا کریں تو وہ تمام
ناپاکیاں بیماریاں دور کردیگا۔ دیکھو ان شعروں میں صاف اقرار ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب سے انسان پاک ہو جاتا ہے پھر یہ مقولہ کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ بجز خدا تعالیٰ کے سب ناپاک اور گندے
ہیں ہریک بات کے لفظ پکڑ لینے اور حقیقت سے غافل رہنا یہ بڑی غلطی ہے مثلاً یہ شعر گرنتھ صاحب میں موجود ہے۔
کہو نانک ہم نیچ کرما سرن پڑیگی راگہو سرما
یعنی اے نانک اس بات کا
اقرار کر دے کہ میں بدعمل آدمی ہوں قدموں پر گرے ہوئے کا لحاظ رکھ لو۔ یعنی اگرچہ میں نہایت ہی بدعمل ہوں مگر اے خالق تیرے قدموں پر آگرا ہوں سو اس لحاظ سے کہ میں قدموں پر آگرا ہوں
مجھے بخش دے۔ اب نہایت بے ادبی ہوگی اگر کوئی صرف لفظوں کا لحاظ کر کے یہ کہے کہ نعوذ باللہ باوانانک صاحب کا چال چلن اچھا نہیں تھا کیونکہ وہ آپ اقرار کرتے ہیں کہ میں نیچ کرم آدمی
ہوں تو یہ سخت جہالت اور تعصب ہے کیونکہ یہ مقولہ ان کا مقام انکسار میں اللہ جلّ شانہٗ کے سامنے ہے ایسا ہی یہ مقولہ ان کا بجز خدا کے تمام مخلوق گندی ہیں مقام انکسار میں ہوگا اور اس کے
یہ معنی ہوں گے کہ حقیقی پاکی صرف خدا کیلئے مسلّم ہے اور باقی سب لوگ اس کے پاک کرنے سے پاک ہوتے ہیں اور ان معنوں سے یہ مضمون قرآن کریم کی تعلیم سے موافق پڑے گا کیونکہ اللہ جلّ
شانہٗ بہشتیوں کی زبان سے فرماتا ہے۔۱ یعنی سب تعریف اس خدا کو جس نے