کرچکا اور ہندو بچے ہریک گلی کوچہ میں اسلام کے منہ پر تھوکنے لگے پس کیا اس وقت واجب نہ تھا کہ ہم بھی کچھ ویدوں
کی حقیقت کھولیں اور آیۂ کریمہ 3 ۱ پر عمل کر کے اپنے مولیٰ کو راضی کریں اور پھر اس وقت سے آج تک ہم خاموش رہے لیکن آریوں کی طرف سے اس قدر گندی کتابیں اور گندی اخباریں توہین
اسلام کے بارے میں اس وقت تک شائع ہوئیں کہ اگر ان کو جمع کریں تو ایک انبار لگتا ہے یہ کیسا خبث باطن ہے کہ مسلمان کہلا کر پھر ظلم کے طور پر ان لوگوں کو ہی حق بجانب سمجھتے ہیں جو
سالہا سال سے ناحق شرارت اور افتراء کے طور پر اسلام کی توہین کر رہے ہیں۔ اے مولویت کے نام کو داغ لگانے والو!!! ذرا سوچو کہ قرآن میں کیا حکم ہے کیا یہ روا ہے کہ ہم اسلام کی توہین
کو چپکے سنے جائیں۔ کیا یہ ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں نکالی جائیں اور ہم خاموش رہیں ہم نے برسوں تک خاموش رہ کر یہی دیکھا ہم دکھ دئیے گئے اور صبر کرتے رہے
مگر پھر بھی ہمارے بد گمان دشمن باز نہ آئے اگر تمہیں شک ہے اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے ہی عیسائیوں اور آریوں کو توہین مذہب کے لئے برانگیختہ کیا ہے ورنہ یہ بے چارے نہایت سلیم
المزاج اور اسلام کی نسبت خاموش تھے بے ادبی اور توہین نہیں کرتے تھے اور نہ گالیاں نکالتے تھے تو آؤ ایک جلسہ کرو پھر اگر یہ ثابت ہو کہ زیادتی ہماری طرف سے ہے اور ابتداسے ہم ہی محرک
ہوئے اور ہم نے ہی ان لوگوں کے بزرگوں کو ابتداءً گالیاں دیں تو ہم ہر ایک سزا کے سزاوار ہیں لیکن اگر اسلام کے دشمنوں کا ہی ظلم ثابت ہو تو ایسے خبیث طبع مولویوں کو کسی قدر سزا دینا ضروری
ہے جو ہماری عداوت کیلئے اسلام کو درندوں کے آگے پھینکتے ہیں ہریک امر کی حقیقت تحقیقات کے بعد کھلتی ہے اگر سچے ہیں تو ایک جلسہ کریں پھر اگر ہم کاذب نکلیں تو بیشک ہندوؤں اور عیسائیوں
کی تائید میں ہماری کتابیں جلا دیں اور ہرگز ایسا جلسہ نہیں کریں گے۔ کیونکہ ان *** لوگوں کے اب دل مجذوم ہوگئے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ محض افترا کے طور پر بخل کے تقاضا سے ان کے منہ
سے یہ باتیں نکل رہی ہیں لیکن باوا نانک صاحب کے بارہ میں جو ہم نے رسالہ ست بچن لکھا ہے اس میں ہم نے باوا صاحب کی نسبت کوئی توہین کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ہمارا یہ رسالہ ان کی
تعریف اور توصیف سے بھرا ہوا ہے اور ہم ایسے نیک منش اور قابل تعریف انسان کی مذمت کرنا سراسر خبث اور ناپاکی کا طریق جانتے ہیں اور ہماری رائے ان کی نسبت یہی ہے کہ وہ سچے دل سے
خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جن پر خدا تعالیٰ کی برکات نازل ہوتی ہیں۔
والسلام علٰی من اتبع الھدی
الراقم خاکسار
غلام احمد