باعث تالیف آریہ دھرم و ست بچن یہ بات ہریک کو معلوم ہے کہ ہم برسوں تک آریوں کے مقابل پر بالکل خاموش رہے قریباً چود۱۴اں برس کا عرصہ ہوگیا کہ جب ہم نے پنڈت دیانند اور اندرمن اور کنہیا لال کی سخت بدزبانی کو دیکھ کر اور انکی گندی کتابوں کو پڑھ کر کچھ ذکر ہندوؤں کے وید کا براھین احمدیہ میں کیا تھا مگر ہم نے اس کتاب میں بجز واقعی امرکے جو ویدوں کی تعلیم سے معلوم ہوتاتھا ایک ذرا زیادتی نہ کی لیکن دیانند نے اپنی ستیارتھ پرکاش میں اور اندرمن نے اپنی کتابوں میں اور کنہیا لال نے اپنی تالیفات میں جس قدر بدزبانی اور اسلام کی توہین کی ہے اس کا اندازہ ان لوگوں کو خوب معلوم ہے جنہوں نے یہ کتابیں پڑھی ہوں گی خاص کر دیانند نے ستیارتھ پرکاش میں وہ گالیاں دیں اور سخت زبانی کی جن کا مرتکب صرف ایسا آدمی ہوسکتا ہے جس کو نہ خداتعالیٰ کا خوف ہو نہ عقل ہو نہ شرم ہو نہ فکر ہو نہ سوچ ہو غرض ہم نے ان سفلہ مخالفوں کے افتراؤں کے بعد صرف چند ورق براہین میں آریوں کے خیالات کے بارہ میں لکھے اور بعدازاں ہم باوجودیکہ لیکھرام وغیرہ نے اپنی ناپاک طبیعت سے بہت سا گند ظاہر کیا اور بہت سی توہین مذہب کی بالکل خاموش رہے ہاں سرمہ چشم آریہ اور شحنہ حق جن کی تالیف پر نوبرس گذر گئے آریوں کی ہی تحریک اور سوالات کے جواب میں لکھے گئے چنانچہ سرمہ چشم آریہ کا اصل موجب منشی مرلیدھر آریہ تھے جنہوں نے بمقام ہوشیارپور کمال اصرار سے مباحثہ کی درخواست کی اور سرمہ چشم آریہ درحقیقت اس سوال جواب کا مجموعہ ہے جو مابین اس عاجز اور منشی مرلیدھر کے مارچ ۱۸۸۶ء میں ہوا۔ پھر ان کتابوں کی تالیف کے بعد آج تک ہم خاموش رہے اور چوداں۱۴ برس سے آج تک یا اگر ہوشیارپور کے مباحثہ سے حساب کرو تو نو۹ برس سے آج تک ہم بالکل چپ رہے اور اس عرصہ میں طرح طرح کے گندے رسالے آریوں کی طرف سے نکلے اور گالیوں سے بھری ہوئی کتابیں اور اخباریں انہوں نے شائع کیں مگر ہم نے بجز اعراض اور خاموشی کے اور کچھ بھی کارروائی نہیں کی پھر جب آریوں کا غلّو حد سے زیادہ بڑھ گیا اور ان کی بے ادبیاں انتہا تک پہنچ گئیں تو اب یہ رسالہ آریہ دھرم لکھا گیا ہمارے بعض اندھے مولوی جو ہریک بات میں ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں اور آریوں اور عیسائیوں کو بالکل معذور سمجھ کر ہریک سخت زبانی ہماری طرف منسوب کرتے ہیں انکو کیا کہیں اور انکی نسبت کیا لکھیں وہ تو بخل اور حسد کی زہر سے مرگئے اور ہمارے بغض سے اللہ اور رسول ؐ کے بھی دشمن ہوگئے۔ اے سیہ دل لوگو! تمہیں صریح جھوٹ بولنا اور دن کو رات کہنا کس نے سکھایا گو یہ سچ ہے کہ ہم نے براھین میں ویدوں کا کچھ ذکر کیا مگر اس وقت ذکر کیا کہ جب دیانند ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی ستیارتھ پرکاش میں صدہا گالیاں دے چکا اور اسلام کی سخت توہین