اور وہ بھی صرف تین یا چار کہ جن سے مسئلہ الہام اور رسالت کا قوانین عامہ قدرتیہ اور عادات قدیمہ الٰہیہ میں داخل بھی نہیں ہوسکتا اور امر نبوت اور وحی کا بباعث قلت تعداد الہام یافتہ لوگوں کے ضعیف اور غیر معتبر اور مشکوک اور مشتبہ ٹھہر جاتا ہے اور نیز کروڑہا بندگان خدا جو اس ملک سے بے خبر رہے یا یہ ملک ان کے ملکوں سے بے خبر رہا۔ فضل اور رحمت اور ہدایت الٰہی سے محروم اور نجات سے بے نصیب رہ جاتے ہیں۔ اور پھر طرفہ یہ کہ بموجب خوش عقیدہ آریہ صاحبوں کے وہ تین یا چار بھی خدا تعالیٰ کے ارادہ اور مصلحت خاص سے منصب نبوت پر مامور نہیں ہوئے بلکہ خود کسی نامعلوم جنم کے نیک عملوں کے باعث سے اس عہدہ پانے کے مستحق ہوگئے اور خدا کو بہرحال انہیں پیغمبر