بنانا ہی پڑا۔ اور باقی سب لوگوں کو ہمیشہ کے لئے اس مرتبہ عالیہ سے جواب مل گیا اور کوئی کسی الزام سے اور کوئی کسی تقصیر سے اور کوئی آریہ قوم اور آریہ دیس سے باہر سکونت رکھنے کے جرم سے الہام پانے سے محروم رہا۔ اب دیکھنا چاہئیے کہ اس ناپاک اعتقاد میں خدا کے مقبول بندوں پر کہ جنہوں نے آفتاب کی طرح ظہور کرکے اس اندھیرے کو دور کیا جو ان کے وقت میں دنیا پر چھا رہا تھا کس قدر ناحق بے موجب بدظنی کی گئی ہے اور پھر اپنے پرمیشر پر بھی یہ بدظنی جو اس کو غافل یا مدہوش یا مخبط الحواس تصور کیا ہے کہ جو اس قدر بے خبر ہے کہ گو بعد وید کے ہزارہا طور کی نئی نئی بدعتیں نکلیں اور لاکھوں طرح کے طوفان آئے اور اندھیریاں چلیں اور رنگا رنگ کے فساد برپا ہوئے اور اس کے راج میں ایک بری طرح کا گڑبڑ پڑگیا اور دنیا کو اصلاح جدید کی سخت سخت حاجتیں پیش آئیں۔ پر وہ کچھ ایسا سویا کہ پھر نہ جاگا اور کچھ ایسا کھسکا کہ پھر نہ آیا۔ گویا اس کے پاس اتنا ہی الہام تھا جو وید میں خرچ کر بیٹھا اور وہی سرمایہ تھا جو پہلے ہی بانٹ چکا اور پھر ہمیشہ کے لئے خالی ہاتھ رہ گیا اور منہ پر مہر لگ گئی اور ساری صفتیں اب تک بنی رہیں۔ مگر تکلم کی صفت صرف وید کے زمانہ تک رہی پھر باطل ہوگئی اور پرمیشر ہمیشہ کے لئے کلام کرنے اور الہام بھیجنے سے عاجز ہوگیا٭یہ اعتقاد آریہ قوم کا ہے کہ جس پر ہریک ہندو کو رغبت دلائی