پہچاننے والے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ایسے شریف لوگ ہریک قوم میں کم و بیش موجود ہوتے ہیں جو مفسدانہ اور غیر مہذب تقریروں کو بالطبع پسند نہیں کرتے اور مختلف فرقوں کے بزرگ ہادیوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا پرلے درجہ کی خباثت اور شرارت سمجھتے ہیں۔ اور فی الواقع سچ بھی ہے کہ جن مقدسوں کو خدا نے اپنی خاص مصلحت اور ذاتی ارادہ سے مقتدا اور پیشوا قوموں کا بنایا اور جن روشن جوہروں کو اس نے دنیا پر چمکا کر ایک عالم کو ان کے ہاتھ سے نور خدا پرستی اور توحید کا بخشا۔ جن کی پرزور تعلیمات سے شرک اور مخلوق پرستی جو اُمّ الخبائث ہے اکثر حصوں زمین سے معدوم ہوگئی اور درخت ذکر وحدانیت الٰہی کا جو سوک گیا تھا پھر سرسبز اور شاداب اور خوشحال ہوگیا اور عمارت خدا پرستی کی جو گرپڑی تھی پھر اپنے مضبوط چٹان پر بنائی گئی۔ جن مقبولوں کو خدا نے اپنے خاص سایہ عاطفت میں لیکر ایسے عجائب طور پر تائید کی کہ وہ کروڑوں مخالفوں سے نہ ڈرے اور نہ تھکے اور نہ گھٹے اور نہ ان کی کارروائیوں میں کچھ تنزل ہوا۔ اور نہ ان پر کچھ بلا آئی جب تک کہ انہوں نے راستی کو ہریک موذی سے امن میں رہ کر زمین پر قائم نہ کرلیا۔ ایسے مقبولان الٰہی کی نسبت زبان درازی کرنا نہایت درجہ کی ناپاکی اور نااہلی اور ہٹ دھرمی ہے۔
ہر کہ تف افگند بہ مہر منیر
ہم برویش فتد تف تحقیر
تا قیامت تف ست بر روئش
قدسیاں دور تر ز بدبویش
اور جو کچھ میں اس مقام میں ادب اور حفظ لسان کے بارے میں نصیحت کررہا ہوں یہ بلاوجہ اور بلا خاص معنے کے نہیں۔ اس وقت میرے ذہن میں کئی ایک ایسے لوگ حاضر ہیں کہ جو انبیاءاور رسولوں کی تحقیر کرکے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا ایک بڑے ثواب کا کام کررہے