کرنا خبث عظیم سمجھتے ہیں اور مرتکب ایسے امر کو پرلے درجہ کا شریر النفس خیال کرتے ہیں۔ سو اسی طرح ہریک اپنے شریف مخاطب کو اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے کہ ان کی کوششیں بھی اس بارے میں مصروف رہنی چاہئیں کہ تمام تحریر ان کی بشرطیکہ کچھ تحریر کریں جیسا کہ مہذب اشخاص کے لائق ہے سراسر تہذیب پر مبنی ہو اور اوباشانہ کلام اور ہجو اور ہتک مقدسین اور رسولوں اور نبیوں سے بکلی پاک ہو۔ یہ منصب تالیفاتِ مذہبی کا بڑا نازک منصب ہے اور اس میں عنانِ حکومت صرف ایک ہی شخص کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ ہر یک حسن اور قبح میں فرق کرنے والے اور منصف اور متعصب اور مفسد اور حق گو کو