مورتوں اور دیوتوں کو اس کے کارخانہ میں دخیل اور اس کی سلطنت کا مدار المہام سمجھ رہا ہے کوئی اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں اور پوتے اور پوتیاں تراش رہا ہے اور کوئی خود اسی کو مچھ اور کچھ کا جنم دے رہا ہے۔ غرض ایک دوسرے سے بڑھ کر اس ذات کامل کو ایسا خیال کررہے ہیں کہ گویا وہ نہایت ہی بدنصیب ہے کہ جس کمال تام کو اس کے لئے عقل چاہتی تھی وہ اس کو میسر نہ ہوا۔ اب اے بھائیو! خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میں نے ایسے ایسے باطل عقائد میں لوگوں کو مبتلا دیکھا اور اس درجہ کی گمراہی میں پایا کہ جس کو دیکھ کر جی پگھل آیا اور دل اور بدن کانپ اٹھا۔ تو میں نے ان کی رہنمائی کے لئے اس کتاب کا تالیف کرنا اپنے نفس پر ایک حق واجب اور دَین لازم دیکھا جو بجز ادا کرنے کے ساقط نہ ہوگا۔ چنانچہ مسودہ اس کتاب کا خدا کے فضل و کرم سے تھوڑے ہی دِنوں میں ایک قلیل بلکہ اقل مدت میں جو عادت سے باہر تھی طیار ہوگیا اور حقیقت میں یہ کتاب طالبان حق کو ایک بشارت اور منکران دین اسلام پر ایک حجت الٰہی ہے کہ جس کا جواب قیامت تک ان سے میسر نہیں آسکتا اور اسی وجہ سے اس کے ساتھ ایک اشتہار بھی انعامی دس ہزار روپیہ کا شامل کیا گیا کہ تاہریک منکر اور معاند پر جو اسلام کی حقیت سے انکاری ہے اتمام حجت ہو اور اپنے باطل خیال اور جھوٹے اعتقاد پر مغرور اور فریفتہ نہ رہے۔ بیا اے طلبگارِ صدق و صواب بخواں از سر خوض و فکر ایں کتاب گرت بر کتابم فتد یک نگاہ بدانی کہ تا جنت این ست راہ مگر شرطِ انصاف و حق پروریست کہ انصاف مفتاح دانشوریست دو چیز ست چوبان دنیا و دیں دلِ روشن و دیدئہ دُور بیں کسے کو خرد دارد و نیز داد نخواہد مگر راہِ صدق و سداد نہ پیچد سر از آنچہ پاک ست و راست نتابد رُخ از آنچہ حق و بجاست چو بیند سخن راز حق پرورے دِگر در سخن کم کند داورے