اُس کتاب کا ہے پر ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں یعنی طالب حق ہیں۔ اور پھر فرمایا کہ خدائے تعالیٰ وہ ذات کریم و رحیم ہے جس کا قدیم سے یہ قانون قدرت ہے کہ وہ ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے یعنی بارش سے پہلے چلاتا ہے یہاں تک کہ جب ہوائیں بھاری بدلیوں کو اٹھالاتی ہیں تو ہم کسی مُردہ شہر کی طرف وارد ہونے شروع ہوجاتے ہیں اور قبولیتِ الٰہی کے ؔ انوار اس پر احاطہ کرلیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ترقی کرتا کرتا مخاطباتِ الٰہیہ سے سرفراز ہوجاتا ہے اور کشوفِ صادقہ اور الہاماتِ واضحہ سے تمتع تام حاصل کرتا ہے اور حضرت الوہیت کے مقربین میں دخل پالیتا ہے اور وہ وہ عجائبات القائے غیبی اور کلام لاریبی اور استجابت ادعیہ اور کشفِ مغیبات ایں نشانِ شہوتی ہست اے لئیم کز رخش رخشاں بود نور قدیم در شبی پیدا شود روزش کند درخزاں آید دل افروزش کند مظہرِ انوارِ آں بیچوں بود در خرد از ہر بشر افزوں بود اتباعش آں دہد دل را کشاد کش نہ بیند کس بصد سالہ جہاد اتباعش دل فروزد جاں دہد جلوۂ از طاقتِ یزداں دہد اتباعش سینہ نورانی کند باخبر از یار پنہانی کند منطق او از معارف پُر بود ہر بیانِ او سراسر دُر بود از کمالِ حکمت و تکمیل دیں پا نہد بر اوّلین و آخریں و از کمال صورت و احسن اتم* جملہ خوباں را کند زیر قدم تابعش چوں انبیا گردد ز نور نورش افتد برہمہ نزدیک و دور شیر حق پُر ہیبت از ربّ جلیل دشمنان پیشش چو روباہ ذلیل ایں چنیں شیری بود شہوت پرست ہوش کن اے رو بہی ناچیز وپست چیستی اے کورکِ فطرت تباہ طعنہ بر خوباں بدیں روئے سیاہ شہوتِ شاں از سر آزادی است نے اسیرِ آں چو تو آں قوم مست خود نگہ کن آں یکے زندانی است وآں دگر داروغۂِ سلطانی است گرچہ در یکجاست ہر دو را قرار لیک فرقی ہست دوری آشکار