سے کچھ خبر نہیں رکھتے اور جو کائنات میں حکیمِ مُطلق نے طرح طرحؔ کے عجیب خواص رکھے ہیں اُن خواص کی انہیں کچھ بھی خبر نہیں ہوتی۔ پس وہ ہریک وقت پھیر لیتے ہیں سو خدا بھی ان سے منہ پھیر لیتا ہے اور رحمت کے ساتھ ان پر رجوعؔ نہیں کرتا اس کا باعث یہی ہوتا ہے کہ وہ عداوت اور بیزاری اور غضب اور غیظ اور نارضامندی جو خدا کی نسبت ان کے دلوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہے وہی ان میں اور خدا میں حجاب ہوجاتی ہے رکھنا محض نادانی ہے پس جس حالت میں فرقان مجید وہ عظیم الشان و سرسبز و شاداب درخت ہے جس کی جڑھیں زمین کے نیچے تک اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں تو پھر ایسے شجرہ طیبہ کے پھلوں سے کیونکر انکار ہوسکتا ہے۔ اس کے پھل بدیہی الظہور ہیں جن کو ہمیشہ لوگ کھاتے رہے ہیں اور اب بھی کھاتے ہیں اور آئندہ بھی کھائیں گے اور یہ بات بعض نادانوں کی بالکل بے ہودہ اور غلط ہے کہ اس زمانہ میں کسی کو ان پھلوں تک گزر ہی نہیں بلکہ ان کا کھانا پہلے لوگوں کے ہی حصہ ؔ میں تھا اور وہی خوش نصیب لوگ تھے جنہوں نے وہ پھل کھائے اور ان سے متمتع ہوئے اور ان کے بعد بدنصیب لوگ پیدا ہوئے جن کو مالک نے باغ کے اندر آنے سے روک دیا۔ خدا کسی ذی استعداد کی استعداد کو ضائع نہیں کرتا اور کسی سچے طالب پر اس کے فیض کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ اور اگر کسی کے خیال باطل میں یہ سمایا ہوا ہے کہ کسی وقت کسی زمانہ میں فیوض الٰہی کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور ذی استعداد لوگوں کی کوششیں اور محنتیں ضائع جاتی ہیں تو اس نے اب تک خدا ئے تعالیٰ کا قدر شناخت نہیں کیا اور ایسا آدمی انہیں لوگوں میں داخل ہے جن کی نسبت خدائے تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے۔ 3۔۱؂ لیکن اگر یہ عذر پیش کیا جائے کہ جن علوم و معارف و کشوف صادقہ و مخاطبات حضرت احدیت کے تحقق وجود کا ذکر کیا جاتا ہے وہ اب کہاں ہیں اور کیونکر بہ پایۂ ثبوت پہنچ سکتے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب امور اسی کتاب میں ثابت کئے گئے ہیں اور طالب حق کے لئے ان کے امتحان کا نہایت سیدھا اور آسان راستہ کھلا ہے کیونکہ وہ علوم و معارف کو خود اس کتاب میں دیکھ سکتا ہے۔ اور جو کشوف صادقہ اور اخبار غیبیہ اور دوسرے خوارق ہیں۔