دست بازی کی بہت گنجائش رہتی ہے اور ان کے پوؔ شیدہ بھیدوں پر اطلاع پانے کا کم موقع ملتا ہے۔ علاوہ اس کے عوام بیچارے علومِ طبعی وغیرہ فنونِ فلاسفہ
کہ ان میں اور خدا میں کوئی حجاب باقی نہیںؔ رہتا اور بالکل رحمت الٰہی کے محاذی آپڑتے ہیں۔ اس جہت سے انوار فیضان الٰہی کے ان پر وارد ہوتے ہیں۔ دوسری قسم وہ لوگ ہیں کہ جو دیدہ و دانستہ مخالفت کا طریق اختیار کرلیتے ہیں اور دشمنوں کی طرح خدا سے مونہہ
ناچیز وہم ہے کہ جو ان لوگوں کے دلوں کو پکڑتا ہے کہ جو اسلام کی اصل حقیقت سے ناواقف ہیں۔ اگر نبیوں کے تابعین کو ان کے کمالات اور علوم اور معارف میں علیٰ وجہ التبعیت شرکت نہ ہو تو باب وراثت کا بکلّی مسدود ہوجاتا ہے یا بہت ہی تنگ اور منقبض رہ جاتا ہے کیونکہ یہ معنے بکلّی منافی وراثت ہے کہ جو کچھ فیوض حضرت مبدء فیاض سے اس کے رسولوں اور نبیوں کو ملتےؔ ہیں اور جس نورانیت یقین اور معرفت تک ان مقدّسوں کو پہنچایا جاتا ہے اس شربت سے ان کے تابعین کے حلق محض ناآشنا رہیں اور صرف خشک اور ظاہری باتوں سے ہی ان کے آنسو پونچھے جائیں۔ ایسی تجویز سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ حضرتِ فیاض مطلق کی ذات میں بھی ایک قسم کا بخل ہو اور نیز اس سے کلام الٰہی اور رسول مقبول کی عظمت اور بزرگی کی کسر شان لازم آتی ہے کیونکہ کلام الٰہی کی اعلیٰ تاثیریں اور نبی معصوم کی قوت قدسیہ کے کمالات اسی میں ہیں کہ انوار دائمہ کلام الٰہی کے ہمیشہ قلوب صافیہ اور مستعدہ کو روشن کرتے رہیں نہ یہ کہ تاثیر ان کی بکلّی معطّل ہو یا صرف معدودے چند تک ہوکر پھر ہمیشہ کے لئے باطل ہوجائے اور زائل القوّت دوا کی طرح فقط نام ہی تاثیر کا باقی رہ جائے ماسوا اس کے جبکہ ایک حقیقت واقعی طور پر ہر عہد اور ہر زمانہ میں خارج میں متحقق الوجود چلی آئی ہے اور اب بھی متحقق الوجود ہے اور شہادات متکاثرہ سے اس کا ثبوت بدیہی طور پر مل سکتا ہے تو پھر ایسی روشن صداقت سے کیونکر کوئی منصف انکار کرسکتا ہے اور ایسی کھلا کھلی سچائی کیونکر اور کہاں چھپ سکتی ہے حالانکہ قیاس بھی یہی چاہتا ہے کہ جب تک درخت قائم ہو اس کو پھل بھی لگتے رہیں۔ ہاں جو درخت خشک ہوجائے یا جڑ سے کاٹا جائے اس کے پھلوں کی توقع