دکھلاویں کہ انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہرؔ ہوئے ہیں کہ کسی نے سانپ
قوتؔ ظاہری ہو یا باطنی اپنے مناسب حال لذّت اٹھانے سے محروم نہیں رہے گی اور جسم اور جان دونوں راحت یا عذابِ اُخروی میں یعنی جیسی کہ صورت ہو شریک ہوجائیں گے۔
ہوا ہے ایک ایسے صانع کی ضرورت ہے جو اپنی ذات میں مدبر بالارادہ اور حکیم اور علیم اور رحیم اور غیر فانی اور تمام صفات کاملہ سے متصفؔ ہو۔ سو وہی اللہ ہے جس کو اپنی ذات میں کمال تام حاصل ہے۔ پھر بعد ثبوت وجود صانع عالم کے طالب حق کو اس بات کا سمجھانا ضروری تھا کہ وہ صانع ہریک طور کی شرکت سے پاک ہے سو اس کی طرف اشارہ فرمایا 3 الخ ۱ اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں دیکھنا چاہئے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہریک قسم کی شراکت سے وجود حضرت باری کا منزّہ ہونا بیان فرمایا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت ازروئے حصر عقلی چار قسم پر ہے کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل اور تاثیر میں۔ سو اس سورۃ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں اور وہ صمدہے یعنی اپنے مرتبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور ہالک الذّات ہیں جو اس کی طرف ہردم محتاج ہیں اور وہ 3 ۲ہے یعنی اس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے اور وہ 3 ۳ ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا شریک بن جائے اور وہ 3 ۴ ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کے اس کا شریک قرار پاوے۔ سو اس طور سے ظاہر فرمادیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزہ ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔ پھر بعد اس کے اس کے وحدہ لاشریک ہونے پر ایک عقلی دلیل بیان فرمائی اور کہا33۔ ۵ 3 الخ۔ ۶ یعنی اگر زمین و آسمان میں بجز اُس