ہیں گو وہ مکر اور فریب ہی ہیں مگر اب مخالف بداندیش پر کیونکر ثابت کرکے
فیضان کرے گا۔ جس لذّتِ کاملہ کو سعید لوگ نہ صرف باطنی طور پر بلکہ صورِ مشہودہ اور محسوسہ میں بھی مشاہدہ کریں گے اور قویٰ انسانیہ میں سے کوئی
رازِ دقیق سے بے خبر رہے کہ حیات حقیقی اور ہستی حقیقی اور قیام حقیقی صرف خدا ہی کے لئے مسلم ہے یہ عمیق معرفت اسی آیت سے انسان کو حاصل ہوتی ہے جس میں خدا نے فرمایا کہ حقیقی طور پر زندگی اور بقاء زندگی صرف اللہ کے لئے حاصل ہے جو جامع صفات کاملہ ہے اس کے بغیر کسی دوسری چیز کو وجود حقیقی اور قیام حقیقی حاصل نہیں اور اسی بات کو صانع عالم کی ضرورت کے لئے دلیل ٹھہرایا اور فرمایا 3۔ ۱ یعنی جبکہ عالم کے لئے نہ حیات حقیقی حاصل ہے نہ قیام حقیقی تو بالضرور اس کو ایک علّتِ موجبہ کی حاجت ہے جس کے ذریعہ سے اس کو حیات اور قیام حاصل ہوا۔ اور ضرور ہے کہ ایسی علّتِ موجبہ جامع صفات کاملہ اور مدبرّبالارادہ اور حکیم اور عالم الغیب ہو۔ سو وہی اللہ ہے۔ کیونکہ اللہ بموجب اصطلاح قرآن شریف کے اس ذات کا نام ہے جو مستجمع کمالات تامہ ہے اسی وجہ سے قرآن شریف میں اللہ کے اسم کو جمیع صفاتِ کاملہ کا موصوف ٹھہرایا ہے اور جابجا فرمایا ہے کہ اللہ وہ ہے جو کہ رب العالمین ہے رحمان ہے رحیم ہے مدبّر بالارادہ ہے حکیم ہے۔ عالم الغیب ہے قادر مطلق ہے ازلی ابدی ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ قرآنِ شریف کی ایک اصطلاح ٹھہر گئی کہ اللہ ایک ذات جامع جمیع صفات کاملہ کا نام ہے اسی جہت سے اس آیت کے سر پر بھی اللہ کا اسم لائے اور فرمایا 3۔ یعنی اس عالم بے ثبات کا قیوم ذات جامع الکمالات ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ عالم جس ترتیب محکم اور ترکیب ابلغ سے موجود اور مترتّب ہے اس کے لئے یہ گمان کرنا باطل ہے کہ انہیں چیزوں میں سے بعض چیزیں بعض کے لئے علّتِ موجبہ ہوسکتی ہیں بلکہ اس حکیمانہ کام کے لئے جو سراسر حکمت سے بھرا