دوسرؔ ے یہ کہ جن لوگوں نے منقولی معجزات کو جو تصرفِ عقل سے بالاتر ہیں مشاہدہ کیا ہے ان کے لئے بھی وہ تسلی تام کا موجب نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ
کے موجب ہوجائیں گے اورؔ کوئی ایسا ظاہری و باطنی امر نہیں ہوگا کہ جو خاص خدائے تعالیٰ کے ارادہ سے نیک بندوں پر بصورت نعمت اور بد بندوں پر
ثابت کرنے والا ہے۔ تفصیل اس استدلال لطیف کی یہ ہے کہ یہ بات بہ بداہت ثابت ہے کہ عالم کے اشیاء میں سے ہریک موجود جو نظر آتا ہے اس کا وجود اور قیام نظراً علیٰ ذاتہٖ ضروری نہیں مثلاً زمین کروی الشکل ہے اور قطر اس کا بعض کے گمان کے موافق تخمیناً چار ہزار کوس پختہ ہے مگر اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی کہ کیوں یہی شکل اور یہی مقدار اس کے لئے ضروری ہے اور کیوں جائز نہیں کہ اس سے زیادہ یا اس سے کم ہو یا برخلاف شکل حاصل کے کسی اور شکل سے متشکل ہو اور جب اس پر کوئی دلیل قائم نہ ہوئی تو یہ شکل اور یہ مقدار جس کے مجموعہ کا نام وجود ہے زمین کے لئے ضروری نہ ہوا اور علیٰ ہذا القیاس عالم کی تمام اشیاء کا وجود اور قیام غیر ضروری ٹھہرا۔ اور صرف یہی بات نہیں کہ وجود ہریک ممکن کا نظراً علی ذاتہ غیر ضروری ہے بلکہ بعض صورتیں ایسی نظر آتی ہیں کہ اکثر چیزوں کے معدوم ہونے کے اسباب بھی قائم ہوجاتے ہیں پھر وہ چیزیں معدوم نہیں ہوتیں مثلاً باوجود اس کے کہ سخت سخت قحط اور وبا پڑتی ہیں مگر پھر بھی ابتداء زمانہ سے تخم ہریک چیز کا بچتا چلا آیا ہے حالانکہؔ عندالعقل جائز بلکہ واجب تھا کہ ہزارہا شدائد اور حوادث میں سے جو ابتدا سے دنیا پر نازل ہوتی رہی کبھی کسی دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ شدت قحط کے وقت غلہ جو کہ خوراک انسان کی ہے بالکل مفقود ہوجاتا یا کوئی قسم غلّہ کی مفقود ہوجاتی یا کبھی شدت وبا کے وقت نوع انسان کا نام و نشان باقی نہ رہتا یا کوئی اور انواع حیوانات میں سے مفقود ہوجاتے یا کبھی اتفاقی طور پر سورج یا چاند کی کَل بگڑ جاتی یا دوسری بے شمار چیزوں سے جو عالم کی درستی نظام کے لئے ضروری ہیں کسی چیز کے وجود میں