اور محسوس کا حکم نہیں رکھتے اور اخبار منقولہ ہونے کے باعث سے وہ درجہ ان کو حاصل بھی نہیں ہوسکتا جو مشاہدات اور مرئیات کو حاصل ہوتا ہے
تصورات سے پکایا جائے گا نہ حقیقی طور پر کوئی جزاخدائے تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر وارد ہوگی نہ کوئی سزا بلکہ خود تراشیدہ خیالات ہی خوش حالی یا بدحالی
اللہ جو جامع صفاتِ کاملہ اور مستحق عبادت ہے اس کا وجود بدیہی الثبوت ہے کیونکہ وہ حیّ بالذّات اور قائم بالذّات ہے بجز اس کے کوئی چیز حیّ بالذّات اور قائم بالذّات نہیں یعنی اس کے بغیر کسی چیز میں یہ صفت پائی نہیں جاتی کہ بغیر کسی علّتِ موجدہ کے آپ ہی موجود اور قائم رہ سکے یا کہ اس عالم کی جو کمال حکمت اور ترتیب محکم اور موزون سے بنایا گیاہے علّتِ موجبہ ہوسکے اور یہ امر اس صانع عالم جامع صفاتِ کاملہ کی ہستی کو