پکڑتا ہے اور اس پست اور ناچیز خیال سے بغایت درجہ سفاہت اور جہالت کی بدبو آتی ہے۔ کاش کہ وہ کلام الٰہی کو غور سے دیکھتے۔ تاکہؔ انہیں معلوم ہوتا کہ خدا کی مقدس اور کامل کلام پر ایسا گمان کرنا گویا چاند پر خاک ڈالنا ہے۔ اور اب بھی ایسے لوگ اگر اس کتاب کو ذرا آنکھ کھول کر پڑھیں اور وہ صدہا دقائق عمیقہ جاپڑیں اور ظاہر ہے کہ جس شخص کے خیال میں یہ بھرا ہوا ہے کہ میرے ہاتھ میں جس قدر دولت اور مال اور حشمت اور حکومت ہے۔ یہ میرے ہی اعمال سابقہ کا بدلہ ہے۔ وہ کیا کچھ نفس امارہ کی پیروی نہیں کرے گا۔ لیکن اگر وہ یہ سمجھتا کہ دنیا دارالجزاء نہیں ہے بلکہ دارالابتلا ہے اور جو کچھ مجھ کو دیا گیا ہے وہ بطور ابتلا اور آزمائش کے دیا گیا ہے تا یہ ظاہر کیا جاوے کہ میں کس طور پر اس میں تصرف کرتا ہوں۔ کوئی ایسی شے نہیں ہے جو میری ملکیت یا میرا حق ہو۔ تو ایسا سمجھنے سے وہ اپنی نجات اس بات میں دیکھتا کہ اپنا تمام مال نیک مصارف میں خرچ کرے اور نیز وہ غایتؔ درجہ کا شکر بھی کرتا کیونکہ وہی شخص دلی اخلاص اور محبت سے شکر کرسکتا ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ میں نے مفت پایا اور بغیر کسی استحقاق کے مجھ کو ملا ہے۔ غرض آریا لوگوں کے نزدیک خدائے تعالیٰ نہ رب العالمین ہے نہ رحمان نہ رحیم اور نہ ابدی اور یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تمام جن اور آدمی اس بات پر اتفاق کرلیں کہ قرآن کی مثل کوئی کلام لاویں، تو یہ بات ان کے لئے ممکن نہیں۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جاویں۔ اور اگر تم کو قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں شک ہے۔ تو تم بھی کوئی ایک سورۃ اس کی مانند بناکر دکھلاؤ۔ اور اگر نہ بناؤ اور یاد رکھو کہ ہرگز نہیں بناسکو گے۔ تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو