اور وہ یہ ہے کہ کتب الہامیہ کم علموں اور کم فہموں یا ا میوں اور بدوؤں کے لئے نازل ہوئی ہیں۔ پسؔ ان کی تعلیم ویسی ہی چاہئے جو کہ بقدر عقول ان لوگوں کے ہو کیونکہ امی اور ناخواندہ آدمی نکاتِ دقیقہ سے منتفع نہیں ہوسکتے۔ اور نہ ان پر مطلع ہوسکتے ہیں۔ لیکن واضح ہو کہ یہ وہم محض کوتہ اندیشی سے ان کے دلوں کو
اسی دنیا میں اپنے نفس امارہ کی خواہشوں کے پورا کرنے میں اس دولت کو خرچ کرے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اسی جہان میں خدائے تعالیٰ کا کسی کو اس غرض سے دولت دینا کہ وہ اس دولت کو فی الحقیقت اپنے اعمال کی جزاء سمجھ کر کھانے پینے اور ہر طرح کی عیاشی کے لئے آلہ بناوے۔ یہ ایک ایسا ناجائز فعل ہے کہ جس کو خدائے تعالیٰ کی طرفؔ نسبت کرنا نہایت درجہ کی بے ادبی ہے۔ کیونکہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ گویا ہندوؤں کا پرمیشر آپ ہی لوگوں کو بدفعلی اور پلیدی میں ڈالنا چاہتا ہے۔ اور قبل اس کے جو ان کا نفس پاک ہو نفسانی لذات کے وسیع دروازے ان پر کھولتا ہے۔ اور پہلے جنموں کے نیک عملوں کا اجر ان کو یہ دیتا ہے کہ پچھلے جنم میں وہ ہر طرح کے اسباب تنعم پاکر اور نفس امارہ کے پورے پورے تابع بن کر پھر تحت الثریٰ میں
اقرار کروایا۔ اب آپ لوگوں کی آنکھوں میں وہی قرآن حریری اور فیضی کے واہیات کلام سے برابر نہیں۔یہ ؔ بڑا کفر خدا کو نہیں بھاتا۔ اگر آپ لوگ کوئی نظیر قرآن شریف کی اس کے ظاہری و باطنی کمالات میں ثابت کر دکھاتے تو پھر جھگڑا ہی کیا تھا۔ پر آپ تو ایسی نظیر پیش کرنے سے بکلی عاجز اور ساکت ہیں پھر معلوم نہیں کہ تم آنکھیں رکھتے ہوئے کیوں نہیں دیکھتے۔ کان رکھتے ہوئے کیوں نہیں سنتے۔ دل رکھتے ہوئے کیوں نہیں سمجھتے۔ اگر حریری اور فیضی تم سے ہی عاقل ہوتے تو وہ آپ ہی دعویٰ کرتے کہ ہم نے قرآن شریف کی نظیر بنالی ہے۔ پر خدا نہ کرے کہ کسی لکھے پڑھے آدمی کی ایسی پست عقل ہو۔ بھلا تم آپ ہی بتلاؤ کہ وہ کون سا کلام تمہاری بغل میں ہے جس میں قرآن شریف کی طرح یہ دعویٰ موجود ہے