ایک بولی ظاہر کی۔ مگر آدمیوں نے وہ قوت دکھلائی کہ بیسیوں بولیاں اس سے بہتر ایجاد کرلیں۔ بھلا ہم آریہ لوگوں سےؔ پوچھتے ہیں کہ اگر یہی سچ ہے کہ سنسکرت ہی پرمیشر کے مونہہ سے نکلی ہے اور دوسری زبانیں انسانوں کی صنعت ہیں اسی کے رو سے خدا کانام سورۃ فاتحہ میں بعد صفت رب العالمین رحمن آیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰن۔ اسی صفت کی طرف قرآن شریف کے کئی ایک اور مقامات میں بھی اشارہ فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ منجملہ انکے یہ ہے یعنی جب کافروں اور بے دینوں اور دہریوں کو کہا جاتا ہے کہ تم رحمان کو سجدہ کرو تو وہ رحمان کے نام سے متنفر ہوکر بطور انکار سوال کرتے ہیں کہ رحمان کیا چیز ہے(پھر بطور جواب فرمایا) رحمان وہ ذات کثیر البرکت اور مصدر خیرات دائمی ہے جس نے آسمان میں بُرج بنائے۔ ُ برجوں میں آفتاب اور چاند کو رکھا جو کہ عامہ مخلوقات کو بغیر تفریق کافر و مومن کے روشنیؔ پہنچاتے ہیں۔ اسی رحمان نے تمہارے لئے یعنی تمام بنی آدم کے لئے دن اور رات بنائی جوکہ ایک دوسرے کے بعد دورہ کرتے رہتے ہیں تا جو شخص طالب معرفت ہو وہ ان دقائق حکمت سے فائدہ اٹھاوے اور جہل اور غفلت کے پردہ سے خلاصی پاوے اور جو شخص شکر نعمت کرنے پر میں قرآن کی طرح بلکہ اس سے بہتر ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ نادانوں کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ یہ بیہودہ حرکت حقیقی فصاحت بلاغت کے دائرہ سے خارج ہے اور ایسا کام نہیں ہے جس کے التزام سے کوئی کتاب بےؔ نظیر اور بے مثل بن جائے بلکہ بے نقط عبارتوں کا لکھنا نہایت درجہ سہل اور آسان ہے اور کوئی ایسی صنعت نہیں ہے جس کا انجام دینا انسان پر سخت اور