بعض نادان آریا ایک سنسکرت کو پرمیشر کی بولی ٹھہرا کر دوسری تمام بولیاں جو صدہاؔ عجائب اور غرائب صنع باری سے بھری ہوئی ہیں انسان کا ایجاد قرار دیتے ہیں۔ گویا انسان کے ہاتھ میں بھی ایک قسم کی خدائی ہے کہ پرمیشر نے تو صرف طرح طرح کی پوشیدنی چیزیں اور ہدایت پانے کے لئےُ صحف ربانی موجود ہیں اور کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ یہ تمام چیزیں میرے عملوں کی برکت سے پیدا ہوگئیں ہیں اور میں نے ہی کسی پہلے جنم میں کوئی نیک عمل کیا تھا جس کی پاداش میں یہ بے شمار نعمتیں خدا نے بنی آدم کو عنایت کیں۔ پس ثابت ہے کہ یہ فیضان جو ہزارہا طور پر ذی روحوں کے آرام کے لئے ظہور پذیر ہورہا ہے یہ عطیہ بلا استحقاق ہے جو کسی عمل کے عوض میں نہیں فقط ربانی رحمت کا ایک جوش ہے تا ہریک جاندار اپنے فطرتی مطلوب کو پہنچ جائے اور جو کچھ اس کی فطرت میں حاجتیں ڈالی گئیں وہ پوری ہوجائیں۔ پس اس فیضان میں عنایت ازلیہ کا کام یہ ہے کہ انسان اور جمیع حیوانات کی ضروریات کا تعہد کرے اور ان کی بائیست اور نابائیست کی خبر رکھے تا وہ ضائع نہ ہوجائیں اور ان کی استعدادیں حَیّزِؔ کتمان میں نہ رہیں اور اس صفت فیضانی کا خدائے تعالیٰ کی ذات میں پایا جانا قانون قدرت کے ملاحظہ سے نہایت بدیہی طور پر ثابت ہورہا ہے کیونکہ کسی عاقل کو اس میں کلام نہیں کہ جو کچھ چاند اور سورج اور زمین اور عناصر وغیرہ ضروریات دنیا میں پائی جاتی ہیں جن پر تمام ذی روحوں کی زندگی کا مدار ہے اسی فیضان کے اثر سے ظہور پذیر ہیں اور ہریک متنفس بلاتمیز انسان و حیوان و مومن و کافرو نیک و بد حسب حاجت اپنے ان فیوض مذکورہ بالا سے مستفیض ہورہا ہے اور کوئی ذی روح اس سے محروم نہیں اور اس فیضان کا نام قرآن شریف میں رحمانیت ہے اور اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ سو اب تم چاند پر خاک مت ڈالو ایسا نہ ہو کہ وہ الٹ کر تمہاری ہی آنکھوں پر گر پڑے۔ بعض عیسائی انجیل کو بطور نظیر پیش کرنے سے ناامید ہوکر فیضی کی موارد القلم پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہؔ فیضی کی یہ کتاب ساری بے نقط ہے اس لئے وہ بھی اپنی فصاحت بلاغت