اسی طرح اپنی قدرت کاملہ سے اس قدر نعمتیں عطاؔ فرمائیں جن کو انسان گن نہیں سکتا لیکن وہی قادر خدا بولی جو انسان کے لئے نہایت ضروری تھی انسان کو
بہ پایۂ ثبوت پہنچایا ہے ان سب فضائل قرآنی کی نظیر پیش کرے اور کسی انسان کے کلام میں ایسے ہی کمالات ظاہری و باطنی دکھلاوے جن کا کلام الٰہی میں پایا جانا ہم نے ثابت کردیا ہے۔ اب اتمام حجت کے لئے کچھ دقائق و حقائق سورۃ فاتحہ کے ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ مگر اول سورۃ فاتحہ کو لکھ کر پھر اس کے معارف عالیہ کا لکھنا شروع کریں گے۔ اور سورۃ فاتحہ یہ ہے:۔
333۔ ۱
اس سورۃ کی تفسیر جس میں کسی قدر بطور نمونہ اس سورۃ کے معارف و حقائق مذکور ہیں ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ آیت سورۃ ممدوحہ کی آیتوں میں سے پہلی آیت ہے اور قرآن شریف کی دوسری سورتوں پر بھی لکھی گئی ہے اور ایک اور جگہ بھی قرآن شریف میں یہ آیت آئی ہے اور جس قدر تکرار اس آیت کا قرآن شریف میں بکثرت پایا جاتا ہے اور کسی آیت میں اس قدر تکرار نہیں پایا جاتا۔ اورؔ چونکہ اسلام میں یہ سنت ٹھہر گئی ہے کہ ہریک کام کے ابتدا میں جس میں خیر اور برکت مطلوب ہو بطریق تبرک اور استمداد اس آیت کو پڑھ لیتے ہیں اس لئے یہ آیت دشمنوں اور دوستوں اور چھوٹوں اور بڑوں میں شہرت پاگئی ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تمام قرآنی آیات سے بے خبر مطلق ہو۔ تب بھی امید قوی ہے کہ اس آیت سے ہرگز اس کو بے خبری نہیں ہوگی۔
غضب کی جگہ پر غضب رحمؔ کی جگہ پر رحم۔ یہ نہیں کہ نرا حلم ہی حلم ہو اور دوسری تمام قوتوں کو معطل اور بیکار چھوڑ دے۔ ہاں منجملہ تمام اندرونی قُوتوں کے قُوّت حلم کو بھی اپنے موقعہ پر ظاہر کرنا ایک انسان کی خوبی ہے۔ مگر انسان کی فطرت کا درخت جس کو خدا نے