اگرچہ خدا نے اپنی قُدرت کاملہؔ سے انسان کو عدم محض سے بنایا۔ پھر اس کو زبان عطا کی۔ آنکھیں دیں۔ کان دیئے اور طرح طرح کی ترقیات کے لئے استعداد بخشی
ہیں اس مرتبہ بے نظیری پر سمجھا جائے کہ انسانی قوتیں ان کی مثل بنانے سے عاجز ہیں مگر ان اعلیٰ درجہ کی خوبیوں کو کہ جو کئی درجہ گلاب کے پھول کی ظاہری و باطنی خوبیوں سے افضل و بہتر اور قوی الثبوت ہیں ایسا خیال کیا جائے کہ گویا انسان ان کی نظیر بنانے پر قادر ہے۔ حالانکہ جس حالت میں انسان میں یہ قدرت نہیں پائی جاتی کہ ایک گلاب کے پھول کی جو صرف ایک ساعت تروتازہ اور خوشنما نظر آتا ہے اور دوسری ساعت میں نہایت افسردہ اور پژمردہ اور بدنما ہوجاتا ہے اور اس کا وہ لطیف رنگ اڑ جاتا ہے اور اس کے پات ایک دوسرے سے الگ ہوکر گر پڑتے ہیں نظیر بناسکے تو پھر ایسے حقیقی پھول کا مقابلہ کیونکر ہوسکے جس کے لئے مالک ازلی نے بہار جاوداں رکھی ہے اور جس کو ہمیشہ بادؔ خزاں کے صدمات سے محفوظ رکھا ہے اور جس کی طراوت اور ملائمت اور حسن اور نزاکت میں کبھی فرق نہیں آتا اور کبھی افسردگی اور پژمردگی اس کی ذاتِ بابرکات میں راہ نہیں پاتی بلکہ جس قدر پرانا ہوتا جاتا ہے اسی قدر اس کی تازگی اور طراوت زیادہ سے زیادہ کھلتی جاتی ہے اور اس کے عجائبات زیادہ سے زیادہ منکشف ہوتے جاتے ہیں اور اس کے حقائق دقائق لوگوں پر بکثرت ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ تو پھر ایسے حقیقی پھول کے اعلٰی درجہ کے فضائل اور مراتب سے انکار کرنا پرلے درجہ کی کور باطنی ہے یا نہیں۔ بہرحال اگر کوئی ایسا ہی نابینا ہو کہ جو اپنی اس کور باطنی سے ان خوبیوں کی شان عظیم کو نہ سمجھتا ہو تو یہ بارِ ثبوت اسی نادان کی گردن پر ہے کہ جو کچھ ہم نے بے نظیری کلام الٰہی کا ثبوت دیا ہے اور جس قدر ہم نے وجوہِ متفرقہ سے اس پاک کلام کا انسانی طاقتوں سے بلند تر ہونا
کرتی ہے اور حلم کو درمیان سے اٹھالیتی ہے خلاصہ یہ کہ تحقیقِ عمیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسان اِس دُنیا میں بہت سی مختلف قوتوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور اس کا کمال فطرتی یہ ہے کہ ہریک قُوّت کو اپنے اپنے موقعہ پر استعمال میں لاوے