باریک باتیں اشارات سے ادا نہ ہوسکیں ان کے ادا کرنے سے قاصر رہ کر ان نقصانوں کو اٹھاتا رہا کہ جو ان تقریروں کی عدم تفہیم اور تفہّم سے عائد حال
اعلیٰ ؔ درجہ کی صداقتوں پر مشتمل ہو اور پھر وہ صداقتیں بھی ایسی ہوں کہ فضول طور پر نہ لکھی گئی ہوں بلکہ کمال درجہ کی ضرورت نے ان کا لکھنا واجب کیا ہو اور نیز وہ صداقتیں ایسی ہوں کہ قبل ان کے ظہور کے تمام دنیا ان سے بے خبر ہو اوران کا ظہور ایک نئی نعمت کی طرح ہو اور پھر ان تمام خوبیوں کے ساتھ ایک یہ روحانی خاصہ بھی ان میں موجود ہو کہ قرآن شریف کی طرح ان میں وہ صریح تاثیریں بھی پائی جائیں جن کا ثبوت ہم نے اس کتاب میں دے دیا ہے اور ہر وقت طالب حق کے لئے تازہ سے تازہ ثبوت دینے کو طیار ہیں اور جب تک کوئی معارض ایسی نظیر پیش نہ کرے تب تک اسی کا عاجز رہنا قرآن شریف کی بے نظیری کو ثابت کرتا ہے۔ اور یہ وجوہ بے نظیری قرآن شریف کی جو اس جگہ لکھی گئی یہ تو ہم نے بطور تنزل اور کفایت شعاری کے لکھی ہیں اور اگر ہم قرآن شریف کی ان تمام دوسری خوبیوں کو بھی کہ جو اس میں پائی جاتی ہیں نظیر طلب کرنے کے لئے لازمی شرط ٹھہراویں مثلاً اپنے مخالفوں کو یہ کہیں کہ جیسا قرآن شریف تمام حقائق اور معارف دینی پر محیط اور مشتمل ہے اور کوئی دینی صداقت اس سے باہر نہیں اور جیسا وہ صدہا امور غیبیہ اور پیشگوئیوں پر احاطہ رکھتا ہے اور پیشگوئیاں بھی ایسی قادرانہ کہ جن میں اپنی عزت اور دشمن کی ذلت اور اپنا اقبال اور دشمن کا ادبار اور اپنی فتح اور دشمن کی شکست پائی جاتی ہے۔ یہ تمام خوبیاں بھی ہمراہ متذکرہ بالا خوبیوں کے اپنے معارضانہ کلام میں پیش کرکے دکھلاویں تو اس شرط سے ان کو تباہی پر تباہی اور موت پر موت آوے گی۔ مگر چونکہ جس قدر پہلے اس سے قرآن شریف کی خوبیاں لکھی گئی ہیں۔ وہی دشمن کور باطن کے ملزم اور لاجواب اور عاجز کرنے کے
کے موافق یہ دونوں طور کی قوتیں عقل کی تابع ہوکر چلتی رہیں۔ یعنے یہ قوتیں مثل رعایا کے ہوں اور عقل مثلؔ بادشاہ عادل ان کی پرورش اور فیض رسانی اور رفع تنازعہ اور مشکل کشائی میں مشغول رہے۔ مثلاً ایک وقت غضب نمودار ہوتا ہے اور حقیقت میں