پیدا ہوکر پھر ایک مدت دراز تک گونگا اور بے زبان رہا اور اُس بدبختی کے زمانہ میں بصد دقّت و مصیبت صرف اشارات سے کام نکالتاؔ رہا۔ اور جو لمبی تقریریں یا پڑا کہ انہوں نے بھی مبہوت اور سراسیمہ ہوکر یہ کہا کہ یہ تو سحر مبین ہے۔ اور پھر منصف کو اس بات سے بھی قرآن شریف کے بے مثل و مانند ہونے پر ایک قوی دلیل ملتی ہے اور روشن ثبوت ہاتھ میں آتا ہے کہ باوجود اس کے مخالفین کو تیرہ سو برس سے خود قرآن شریف مقابلہ کرنے کی سخت غیرت دلاتا ہے اور لاجواب رہ کر مخالفت اور انکار کرنے والوں کا نام شریر اور پلید اور *** اور جہنمی رکھتا ہے۔ مگر پھر بھی مخالفین نے نامردوں اور مخنثوں کی طرح کمال بے شرمی اور بے حیائی سے اس تمام ذلت اور بے آبروئی اور بے عزتی کو اپنے لئے منظور کیا اور یہ روا رکھا کہ ان کا نام جھوٹا اور ذلیل اور بے حیا اور خبیث اور پلید اور شریر اور بے ایمان اور جہنمی رکھا جاوے مگر ایک قلیل المقدار سورۃ کا مقابلہ نہ کرسکے اور نہ ان خوبیوں اور صفتوں اور عظمتوں اور صداقتوں میں کچھ نقص نکال سکے کہ جن کو کلام الٰہی نے پیش کیا ہے۔ حالانکہ ہمارے مخالفین پر درحالت انکار لازم تھا اور اب بھی لازم ہے کہ اگر وہ اپنے کفر اور بے ایمانی کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو وہ قرآن شریف کی کسی سورۃ کی نظیر پیش کریں اور کوئی ایسا کلام بطور معارضہ ہمارے سامنے لاویں کہ جس میں یہ تمام ظاہری و باطنی خوبیاں پائی جاتی ہوں کہ جو قرآن شریف کی ہریک اقل قلیل سورۃ میں پائی جاتی ہیں یعنی عبارت اس کی ایسی اعلیٰ درجہ کی بلاغت پر باوصف التزام راستی اور صداقت اور باوصف التزام ضرورت حقہ کے واقعہ ہوکہ ہرگز کسی بشر کے لئے ممکن نہ ہو کہ وہ معانی کسی دوسری ایسی ہی فصیح عبارت میں لاسکے اور مضمون اُس کا نہایت فوت ہوجاتے۔ انسان کی صورتِ فطرت کہ جس پر قائم ہوجانے سے وہ انسان کہلاتا ہے یہ ہے کہ خدا نے اس کی سرشت میں جیسا عفوؔ اور درگزر کی استعداد رکھی ہے ایسا ہی غضب اور انتقام کی خواہش بھی رکھی ہے اور ان تمام قوتوں پر عقل کو بطور افسر کے مقرر کیا ہے پس انسان اپنی حقیقی انسانیت تک تب پہنچتا ہے کہ جب فطرتی صورت