زمانہ خالص قدرت نمائی کا زمانہ تھا اور اس میں عام طور پر قانون قدرت یہی تھا کہ
معلوم ہوا کہ گلاب کے پھول کو سورۃ فاتحہ کے ساتھ ایک روحانی مناسبت ہے۔ سو ایسی مناسبت کے لحاظ سے اس مثال کو اختیار کیا گیا اور مناسب معلوم ہوا کہ اول بطور مثال گلاب کے پھول کے عجائبات کو کہ جو اس کے ظاہر و باطن میں پائے جاتے ہیں لکھا جائے اور پھر بمقابلہ اس کے عجائبات کے سورۃ فاتحہ کے عجائبات ظاہری و باطنی قلمبند ہوں تا ناظرین باانصاف کو معلوم ہو کہ جو خوبیاں گلاب کے پھول میں ظاہراً و باطناً پائی جاتی ہیں جن کے رو سے اس کی نظیر بنانا عادتاً محال سمجھا گیا ہے۔ اسی طور پر اور اس سے بہتر خوبیاں سورۃ فاتحہ میں موجود ہیں اور تا اس مثال کے لکھنے سے اشارہ کشفی پر بھی عمل ہوجائے۔ پس جاننا چاہئے کہ یہ امر ہریک عاقل کے نزدیک بغیر کسی تردّد اور توقّف کے مسلّم الثبوت ہے کہ گلاب کا پھول بھی مثل اور مصنوعات الٰہیہ کے ایسی عمدہ خوبیاں اپنی ذات میں جمع رکھتا ہے جن کی مثل بنانے پر انسانؔ قادر نہیں اور وہ دو طور کی خوبیاں ہیں۔ ایک وہ کہ جو اس کی ظاہری صورت میں پائی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس کا رنگ نہایت خوشنما اور خوب ہے اور اس کی خوشبو نہایت دلارام اور دلکش ہے اور اس کے ظاہر بدن میں نہایت درجہ کی ملائمت اور تروتازگی اور نرمی اور نزاکت اور صفائی ہے اور دوسری وہ خوبیاں ہیں کہ جو باطنی طور پر حکیم مطلق نے اس میں ڈال رکھی ہیں یعنے وہ خواص کہ جو اس کے جوہر میں پوشیدہ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ وہ مفرح اور مقوّئ قلب اورُ مسکن صفرا ہے اور تمام قویٰ اور ارواح کو تقویت بخشتا ہے اور صفر اور بلغم رقیق کا مسہل بھی ہے اور اسی طرح معدہ اور جگر اور گردہ اور امعا اور رِحم اور پھیپھڑہ کو بھی قوّت بخشتا ہے اور خفقان حارّ اور غشی اور ضعفِ قلب کے لئے نہایت مفید ہے اور اسی طرح اور کئی امراض بدنی کو
کبھیؔ کبھی یہ دعویٰ کر بیٹھتے ہیں کہ انجیل بھی اپنی تعلیم کی رو سے بے مثل و مانند ہے۔ یعنے انسان اس کی مثل بنانے پر قادر نہیں۔ پس اس سے ثابت ہے کہ تعلیم اس کی خدا کا کلام ہے اور انجیل کی تعلیم کا بے مثل و مانند ہونا اس طرح پر بیان کرتے ہیں کہ اس میں عفو اور درگزر اور نیکی اور احسان کے لئے بہت سی تاکید ہے۔