قدرت کو ناقص خیال کیا جائے۔ غرض جبکہ ہریک عاقل کو یہ ماننا پڑتاؔ ہے کہ پہلا اس کی وجوہ بے نظیری میں کسی شے کی شراکت تامہ ثابت ہونا بلاشبہ اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ شے بھی بے نظیر ہی ہے مثلاً اگر کوئی چیز اس چیز سے بکلی مطابق آجائے جو اپنے مقدار میں دس گز ہے تو اس کی نسبت بھی یہ علم صحیح قطعی مفید یقین جازم حاصل ہوگا کہ وہ بھی دس گز ہے۔ اب ہم ان مصنوعات الٰہیہ میں سے ایک لطیف مصنوع کو مثلاً گلاب کے پھول کو بطور مثال قرار دے کر اس کے وہ عجائبات ظاہری و باطنی لکھتے ہیں جن کی رو سے وہ ایسی اعلیٰ حالت پر تسلیم کیا گیا ہے کہ اس کی نظیر بنانے سے انسانیؔ طاقتیں عاجز ہیں۔ اور پھر اس بات کو ثابت کرکے دکھلائیں گے کہ ان سب عجائبات سے سورۃ فاتحہ کے عجائبات اور کمالات ہم وزن ہیں۔ بلکہ ان عجائبات کا پلہ بھاری ہے اور اس مثال کے اختیار کرنے کا موجب یہ ہوا کہ ایک مرتبہ اس عاجز نے اپنی نظر کشفی میں سورۃ فاتحہ کو دیکھا کہ ایک ورق پر لکھی ہوئی اس عاجز کے ہاتھ میں ہے اور ایک ایسی خوبصورت اور دلکش شکل میں ہے کہ گویا وہ کاغذ جس پر سورۃ فاتحہ لکھی ہوئی ہے سرخ سرخ اور ملائم گلاب کے پھولوں سے اس قدر لدا ہوا ہے کہ جس کا کچھ انتہا نہیں اور جب یہ عاجز اس سورۃ کی کوئی آیت پڑھتا ہے تو اس میں سے بہت سے گلاب کے پھول ایک خوش آواز کے ساتھ پرواز کرکے اوپر کی طرف اڑتے ہیں اور وہ پھول نہایت لطیف اور بڑے بڑے اور سندر اور تروتازہ اور خوشبودار ہیں جن کے اوپر چڑھنے کے وقت دل و دماغ نہایت معطر ہوجاتا ہے اور ایک ایسا عالم مستی کا پیدا کرتے ہیں کہ جو اپنی بے مثل لذتوں کی کشش سے دنیا و مافیہا سے نہایت درجہ کی نفرت دلاتے ہیں۔ اس مکاشفہ سے اور نہ اپنے سب بیان کے رو سے الہامیؔ ہیں اور اسی وجہ سے انجیلوں کے واقعات میں طرح طرح کی غلطیاں پڑگئیں اور کچھ کا کچھ لکھا گیا۔ غرض اس بات پر عیسائیوں کے کامل محققین کا اتفاق ہوچکا ہے کہ انجیل خالص خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ پتے داری گاؤں کی طرح کچھ خدا کا کچھ انسان کا ہے۔ ہاں بعض ناواقف عیسائی بوجہ اپنی نہایت سادہ لوحی کے