کے پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جس نے خود انسان کوؔ بغیر باپ اور ماں کے ان امور کا جمع ہونا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ کیونکہ جیسا کہ خدا بے مثل و مانند ہے اسی طرح جو چیز اسی کی طرف سے صادر ہے وہ بے مثل و مانند چاہئے جس کی نظیر بنانے پر انسان قادر نہ ہوسکے۔ پس قرآن شریف نے جو اپنے ؔ کمالات میں بے مثل ہونے کا دعویٰ کیا ہے یہ کوئی بے موقعہ دعویٰ نہیں۔ یہ وہی قانون قدرت کا مسئلہ ہے جس پر چلنا انسان کی دانشمندی ہے۔ جس سے انحراف کرنا حماقت کی نشانی ہے۔ ذرا اپنے ہی دل میں سوچ کر آپ انصافاًفرمائیے کہ خدا کے کلام کا بے نظیر ہونا قانون قدرت کے لحاظ سے لازم ہے یا نہیں۔ اگر آپ کے نزدیک لازم نہیں اور خدا کے کاموں میں شرکت غیر بھی جائز ہے تو پھر صاف یہی کیوں نہیں کہتے کہ ہم کو خدا کے واحد لا شریک ہونے میں ہی کلام ہے۔ کیا آپ اس بدیہی بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ خدا کی وحدانیت تب ہی تک ہے جب تک اس کی تمام صفات شرکتِ غیر سے منزہ ہیں۔ اگر خدا کے کلام کی یہ حیثیت ہو کہ انسان بھی ایسا ہی کلام بناسکے تو گویا خدا کی ساری حیثیت معلوم ہوگئی۔ گویا اس کی خدائی کا سارا بھید ہی کھل گیا۔* * اسؔ بات پر عیسائیوں کو بھی نہایت توجہ سے غور کرنی چاہئے کہ خدائے بے مثل و مانند اور کامل کے کلام میں کن کن نشانیوں کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ان کی انجیل بو جہ محرّف اور مبدّل ہوجانے کے ان نشانیوں سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب ہے بلکہ الٰہی نشان تو یک طرف رہے معمولی راستے اور صداقت بھی کہ جو ایک منصف اور دانشمند مُُتکلّم کے کلام میں ہونی چاہئے انجیل کو نصیب نہیں۔ کم بخت مخلوق پرستوں نے خدا کے کلام کو، خدا کی ہدایت کو، خدا کے نور کو اپنے ظلمانی خیالات سے ایسا ملا دیا کہ اب وہ کتاب بجائے رہبری کے رہزنی کا ایک پکا ذریعہ ہے۔ ایک عالم کو کس نے توحید سے برگشتہ کیا؟ اسی مصنوعی انجیل نے۔ ایک دنیا کا کس نے خون کیا؟ انہیں تالیفات اربعہ نے جن اعتقادوں کی طرف مخلوق پرستوں کا نفس امّارہ جھکتا گیا اُسی طرف ترجمہ کرنے کے وقت ان کے الفاظ بھی جھکتے گئے۔ کیونکہ انسان کے الفاظ ہمیشہ اس کے خیالات کے تابع ہوتے ہیں۔ غرض انجیل کی ہمیشہ کایا پلٹ کرتے رہنے سے اب وہ کچھ اور ہی چیز ہے اور خدا بھی اس کی تعلیم