سمجھا جائے کہ جس طرح اس نے تمام چیزوں کو محض قدرت سے پیدا کیا تھا وہ بولیوں
کی ہستی اور اس کی صفات کاملہ اور عالم جزا سزا سے بکلی بے خبر رہتا ہے۔ پس چونکہ معرفت حقہ کی تعلیم کا اقتدار صرف کلام الٰہی میں ثابت ہے عقل میں ثابت نہیں۔ اس لئے ہریک عاقل کو ماننا پڑتا ہے کہ ایمان اور دین کی بنیاد کلام الٰہی ہے خیالات عقلیہ ہرگز بنیاد نہیں ہیں۔ اگرچہ استعداد عقلی نفس انسان میں موجود ہے مگر وہ استعداد بغیر رہبری کلام الٰہی کے ناکارہ ہے۔ جیسے استعداد بصارت آنکھوں میں موجود تو ہے مگر بغیر آفتاب کے کچھ چیز نہیں اور جس طرح آفتاب کی روشنی اپنے وجود کو بھی ثابت کرتی ہے اور آفتاب کے وجود کی طرف بھی رہبر ہے۔ اسی طرح خدا کا کلام اپنی ذاتی روشنی اور صداقت اور بے مثل ہونے کی وجہ سے اپنا منجانب اللہ ہونا بھی ثابت کرتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی ہستی کی طرف بھی یقینی اور قطعی طور پر رہبر ہے۔
پھر پنڈت صاحب نے پرچہ دھرم جیون جنوری ۱۸۸۳ء میں یہ دعویٰ کردیا ہے کہ دانشمند انسان ایسی کتاب تالیف کرسکتا ہے کہ جو کمالات میں مثل قرآن شریف کے یا اس سے بڑھ کر ہو۔ اب چونکہ پنڈت صاحب بھی دانشمند ہی ہیں بلکہ اپنی قوم کے ریفارمر اور مصلح ہونے کا دم مارتے ہیں اس لئے یہ بار ثبوت انہیں کے ذمہ ہے کہ وہ ایسی کتاب تالیف کرکے دکھلاویں اور جس طرح قرآن شریف باوجود کمالِ ایجاز جامع تمام حقائق و دقائق ہے اور جس طرح قرآن شریف باوجود التزام حق اور حکمت اور صداقت کے اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور بلاغت پر ہے اور جس طرح قرآن شریف اعلیٰ درجہ کی پیشین گوئیوں اور امور غیبیہ سے بھرا ہوا ہے اور جس طرح قرآن شریف اپنی پاک تاثیروں کی وجہ سے سچے طالبوں کے دلوں کو پاک کرکے آسمانی روشنی سے منور کرتا ہے اور ان میں وہ خاص برکتیں پیدا کرتا ہے کہ جو دوسرے مذہبوں میں نہیں پائی جاتیں جیسا کہ ہم نے ان سب باتوں کو اپنی کتاب میں ثابت کردیا ہے اور کامل ثبوت دے دیا ہے۔ اسی طور اور شان کی کوئی اور کتاب تالیف کرکے پیش کریں۔
ندارد کسے باتو ناگفتہ کار
و لیکن چو گفتی دلیلش بیار
لیکن ہم پنڈت صاحب پر ظاہر کرتے ہیں کہ کسی انسان کے لئے ہرگز ممکن نہیں کہ وہ امور متذکرہ بالا کو جو طاقت انسانی سے بلند تر ہیں اپنے کلام میں پیدا کرسکے مگر خدا کے کلام میں