بولی جاتی ہیں۔ اور اگر کوئی یہ وہم پیش کرے کہ جس طرح طبعی طورؔ پر خدا تعالیٰ بولیوں ریویو بھی لکھا ہے۔ لیکن چونکہ بقول مشہور سانچ کو آنچ نہیں۔ اور آفتاب صداقت کسی کے چھپانے سے چھپ نہیں سکتا۔ اس لئے پنڈت صاحب نے جس قدر کوشش کی اس کا بجز اس کے اور کوئی نتیجہ نہیں ہوا کہ دانشمندوں پر صاف کھل گیا ہے کہ پنڈت صاحب حق کے قبول کرنے سے کسؔ قدر نفرت رکھتے ہیں۔ سو اگرچہ پنڈت صاحب کی وہ تحریر اس لائق ہرگز نہیں کہ اس کے ردّ کرنے کی طرف توجہ کی جائے۔ بلکہ خود ہمارے مضمون گزشتہ کو غور سے پڑھنا اس کے ردّ کرنے کے لئے کافی و وافی ہے۔ لیکن اس جہت سے کہ تا پنڈت صاحب کچھ افسوس نہ کریں یا ان کے بعض رفیق ہماری اس خاموشی کو اپنی خوش فہمی سے کسی طور کے عجز پر حمل نہ کر بیٹھیں قرین مصلحت معلوم ہوا کہ گو پنڈت صاحب کی تحریر کیسی ہی بے حقیقت ہے۔ تب بھی منصفین پر اس کی اصلیت ظاہر کی جائے۔ سو واضح ہو کہ پنڈت صاحب نے ہمارے ثبوت کے مقابلہ پر اپنے ریویو میں اس بات پر زور دیا ہے کہ جس طریق سے کتب آسمانی کا الہامی ہونا مانا جاتا ہے وہ طریق عقلاً ممتنع اور محال ہے اور قوانین نیچریہ کے برخلاف ہونے کی وجہ سے ہرگز وہ طریق درست نہیں۔ یعنے پنڈت صاحب کی نظر شریف میں وہ الہام ہرگز ممکن الوجود نہیں جس کو کلام الٰہی کہا جاتا ہے۔ اور جو محض خداوند حکیم و عالم الغیب کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی ذات پاک کی طرح ہریک شک و شبہ اور غلطی و سہو اور نسیان سے بکلی پاک ہوتا ہے اور جو صفات کاملہ خدا کے کلام میں چاہئے اُن تمام صفتوں سے موصوف ہوتا ہے یعنی جیسے خدا عالم الغیب ہے وہ کلام بھی علم غیب پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور جیسے خدا حکیم و علیم ہے وہ کلام بھی حکمت اور علم پر اشتمال رکھتا ہے۔ اور جیسے خدا غلطی اور جھوٹ اور سہو اور نسیان سے پاک ہے وہ کلام بھی ان تمام امور سے پاک ہوتا ہے اور انسانی خیالات کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں ہوتا اور نہ انسان کے اختیار میں ہے کہ کسی نوع کا تقدس اور پاکیزگی حاصل کرکے یا کوئی اور حیلہ اور تدبیر بجالاکر خواہ نخواہ وہ الہام اپنے نفس پر آپ ہی کھول دیا کرے اور انوارِ غیبیہ اور امورِ پنہانی اور اسرار آسمانی پر جب چاہے آپ ہی مطلع ہوجائے۔ کیونکہ اگر ایسا ہو سکتا تو انسان بھی خدا کی