دنیا کی طرف لگ رہا ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا بھی ان کو نہیں ملتی۔ خسر الدنیا والعاقبۃ بن رہے ہیں۔ اور کیونکر ملے۔ دین تو ہاتھ سے گیا اور دنیا کمانے کے لئے جو لیاقتیں ہونی چاہئیں وہ حاصل نہیں کیں۔ صرف شیخ چلی کی طرح دنیا کے خیالات دل میں بھرے ہیں۔ اور جس لکیر پر چلنے سے دنیا ملتی ہے اس پر قدم نہ رکھا۔ اور اس کے مناسب حال اپنے تئیں نہ بنایا۔ سو اب ان کا یہ حال ہے کہ نہ اِدھر کے رہے اور نہ اُدھر کے رہے۔ انگریز جو انہیں نیم وحشی کہتے ہیں یہ بھی ان کا احسان ہی سمجھیئے ورنہ اکثر مسلمان وحشیوں سے بھی بدتر نظر آتے ہیں۔ نہ عقل رہی نہ ہمت رہی نہ غیرت رہی نہ محبت رہی۔ فی الحقیقت یہ سچ ہے کہ جس قدر ان کے ہمسائیوں آریوں کی نظر میں ایک ادنیٰ حیوان گائے کی عزت اور توقیر ہے ان کے دلوں میں اپنی قوم اور اپنے بھائیوں اور اپنے سچے دین کی مہمات کی اس قدر بھی عزت نہیں۔ کیونکہ ہم ہمیشہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ اولوالعزم قوم آریہ گائے کی عزت قائم رکھنے کے لئے اس قدر کوششیں کرکے لکھو کھہا روپیہ جمع کرلیتے ہیں کہ مسلمان لوگ اللہ اور رسول کی عزت ظاہر کرنے کے لئے اس کا ہزارم حصہ بھی جمع نہیں کرسکتے بلکہ جہاں کہیں اعانت دینی کا ذکر آیا تو وہیں عورتوں کی طرح اپنا مونہہ چھپالیتے ہیں۔ اور آریہ قوم کی اولوالعزمی غور کرنے سے اور بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ گائے کی جان بچانے کے لئے کوشش کرنا حقیقت میں ان کے مذہب کے رو سے ایک ادنیٰ کام ہے کہ جو مذہبی کتب سے ثابت نہیں ۔بلکہ ان کے محقق پنڈتوں کو خوب معلوم ہے کہ کسی وید میں گائے کا حرام ہونا نہیں پایا جاتا۔ بلکہ رگ وید کے پہلے حصہ سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ وید کے زمانہ میں گائے کا گوشت عام طور پر بازاروں میں بکتا تھا اور آریہ لوگ بخوشی خاطر اس کو کھاتے تھے۔ اور حال میں جو ایک بڑے محقق یعنے آنریبل مونٹ اسٹورٹ الفنسٹن صاحب بہادر سابق گورنر بمبئی نے واقعات آریہ قوم میں ہندوؤں کے مستند پستکوں کی رو سے ایک کتاب بنائی ہے جس کا نام تاریخ ہندوستان ہے اس کے صفحہ نواسی میں منوؔ کے مجموعہ کی نسبت صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ اس میں بڑے بڑے تیوہاروں میں بیل کا گوشت کھانے کے لئے برہمنوں کو تاکید کی گئی ہے یعنے اگر