اور فروتنی اور حسن ظن اور محبت برادرانہ کو اٹھالیا۔ انا للّہ وانا الیہ راجعون تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ بعض صاحبوں نے مسلمانوں میں سے اس مضمون کی بابت کہ جو حصہ سوم کے ساتھ گورنمنٹ انگریزی کے شکر کے بارے میں شامل ہے اعتراض کیا اور بعض نے خطوط بھی بھیجے اور بعض نے سخت اور درشت لفظ بھی لکھے کہ انگریزی عملداری کو دوسری عملداریوں پر کیوں ترجیح دی۔ لیکن ظاہر ہے کہ جس سلطنت کو اپنی شائستگی اور حسن انتظام کے رو سے ترجیح ہو۔ اس کو کیونکر چھپا سکتے ہیں۔ خوبی باعتبار اپنی ذاتی کیفیت کے خوبی ہی ہے گو وہ کسی گورنمنٹ میں پائی جائے۔ الحکمۃ ضالّۃ المؤمن۔ الخ۔ اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں ہے کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کر اس کا احسان اٹھاوے اس کے ظل حمایت میں باَمن و آسائش رہ کر اپنا رزق مقسوم کھاوے۔ اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے پھر اسی پر عقرب کی طرح نیش چلاوے۔ اور اس کے سلوک اور مروّت کا ایک ذرہ شکر نہ بجا لاوے۔ بلکہ ہم کو ہمارے خداوند کریم نے اپنے رسول مقبول کے ذریعہ سے یہی تعلیم دی ہے کہ ہم نیکی کا معاوضہ بہت زیادہ نیکی کے ساتھ کریں اورُ منعم کا شکر بجالاویں۔ اور جب کبھی ہم کو موقعہ ملے تو ایسی گورنمنٹ سے بدلی صدق کمال ہمدردی سے پیش آویں اور بہ طیب خاطر معروف اور واجب طور پر اطاعت اٹھاویں۔ سو اس عاجز نے جس قدر حصہ سوم کے پرچہ مشمولہ میں انگریزی گورنمنٹ کا شکر ادا کیا ہے وہ صرف اپنے ذاتی خیال سے ادا نہیں کیا بلکہ قرآن شریف و احادیث نبوی کی ان بزرگ تاکیدوں نے جو اس عاجز کے پیش نظر ہیں مجھ کو اس شکر ادا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سو ہمارے بعض ناسمجھ بھائیوں کی یہ افراط ہے جس کو وہ اپنی کوتہ اندیشی اور بخل فطرتی سے اسلام کا جز سمجھ بیٹھے ہیں۔ اے جفاکیش نہ عذرست طریق عشاق ہرزہ بدنام کنی چند نکو نامے را اور جیسا کہ ہم نے ابھی اپنے بعض بھائیوں کی افراط کا ذکر کیا ہے ایسا ہی بعض ان میں سے تفریط کی مرض میں بھی مبتلا ہیں اور دین سے کچھ غرض واسطہ ان کا نہیں رہا۔ بلکہ ان کے خیالاتؔ کا تمام زور