​ کے بیان کرنے کے وقت وہ الفاظ کہ جو اس کے مونہہ سے نکلتے ہیں۔ اس کی لیاقت علمی صداقت دینی قرآن کے مقابلہ پر پیش کی جس کا قرآن نے کچھ جواب نہ دیا اور خالی ہاتھ بھیج دیا جس حالت میں تیرہ سو برس سے قرآن شریف بآواز بلند دعویٰ کررہا ہے کہ تمام دینی صداقتیں اس میں بھری پڑی ہیں۔ تو پھر یہ کیسا خبث طینت ہے کہ امتحان کے بغیر ایسی عالیشان کتاب کو ناقص خیال کیا جائے۔ا ور یہ کس قسم کا مکابرہ ہے کہ نہ قرآن شریف کے بیان کو قبول کریں اور نہ اس کے دعویٰ کو توڑ کر دکھلائیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے لبوں پر تو ضرور کبھی کبھی خدا کا ذکر آجاتا ہے۔ مگر ان کے دل دنیا کی گندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی دینی بحث شروع بھی کریں تو اس کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں چاہتے۔ بلکہ ناتمام گفتگو کا ہی جلدی سے گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ تا ایسا نہ ہو کہ کوئی صداقت ظاہر ہوجائے۔ اور پھر بے شرمی یہ کہ گھر میں بیٹھ کر اس کامل کتاب کو ناقص بیان کرتے ہیں جس نے بوضاحت تمام فرما دیا۔ 33۔ الجزو نمبر ۶۔۱؂ یعنے آج میں نے اس کتاب کے نازل کرنے سے علم دین کو مرتبہ کمال تک پہنچا دیا اور اپنی تمام نعمتیں ایمانداروں پر پوری کردیں۔ اے حضرات! کیا تمہیں کچھ بھی خدا کا خوف نہیں؟ کیا تم ہمیشہ اسی طرح جیتے رہو گے؟ کیا ایک دن خدا کے حضور میں اس جھوٹے منہ پر لعنتیںؔ نہیں پڑیں گی؟ اگر آپ لوگ کوئی بھاری صداقت لئے بیٹھے ہیں جس کی نسبت تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے کمال جانفشانی اور عرق ریزی اور موشگافی سے اس کو پیدا کیا ہے اور جو تمہارے گمان باطل میں قرآن شریف اس صداقت کے بیان کرنے سے قاصر ہے تو تمہیں قسم ہے کہ سب کاروبار چھوڑ کر وہ صداقت ہمارے روبرو پیش کرو۔ تاہم تم کو قرآن شریف میں سے نکال کر دکھلادیں۔ مگر پھر مسلمان ہونے پر مستعد رہو۔ اور اگر اب بھی آپ لوگ بدگمانی اور بک بک کرنا نہ چھوڑیں اور مناظرہ کا سیدھا راستہ اختیار نہ کریں تو بجز اس کے اور کیا کہیں کہ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ الا اے کمر بستہ بر افترا ​ مکش خویشتن را بہ ترک حیا بخاصان حق کینہ ات تا کجا ​ گہے شرمت آید ز گیہاں خدا