بے نظیری کے رتبہ پر ہے کہ اس صانع وحید کے وجود پر دلالت کامل کررہا ہے۔ اور اگر یہ ذریعہ نہ ہوتاؔ تو پھر عقل کو خدا تک پہنچنے کا راستہ مسدود تھا۔ اور جبکہ خدا کو شناخت کرنا رکھا ہے جس کی ایک طرف نہایت ارتفاع پر واقعہ ہو۔ اور دوسری طرف نہایت انحضاض۱؂ پر۔ طرف ارتفاع میں وہ نفوسِ صافیہ ہیں جن کی استعدادیں حسبِ مراتب متفاوتہ کامل درجہ پر ہیں اور طرف انحضاض۲؂ میں وہ نفوس ہیں جن کو اس سلسلہ میں ایسی پست جگہ ملی ہے کہ حیوانات لایعقل کے قریب قریب پہنچ گئے ہیں اور درمیان میں وہ نفوس ہیں جو عقل وغیرہ میں درمیان کے درجہ میں ہیں۔ اور اس کے اثبات کے لئے مشاہدہ افراد مختلفۃ الاستعداد کافی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی عاقل اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ افراد بشریہ عقل کے رو سے تقویٰ اور خداترسی کے لحاظ سے محبت الٰہیہ کی وجہ سے مختلف مدارج پر پڑی ہوئی ہیں۔ اور جس طرح قدرتی واقعات سے کوئی خوبصورت پیداؔ ہوتا ہے کوئی بدصورت کوئی سوجاکھا کوئی اندھا کوئی ضعیف البصر کوئی قوی البصر کوئی تام الخلقت کوئی ناقص الخلقت۔ اسی طرح قویٰ دماغیہ اور انوار قلبیہ کا تفاوت مراتب بھی مشہود اور محسوس ہے۔ ہاں یہ سچ بات ہے کہ ہریک فرد بشر بشرطیکہ نرا مخبط الحواس اور مسلوب العقل نہ ہو عقل میں تقویٰ میں محبت الٰہیہ میں ترقی کرسکتا ہے۔ مگر اس بات کو بخوبی یاد رکھنا چاہیئے کہ کوئی نفس اپنے دائرہ قابلیت سے زیادہ ہرگز ترقی نہیں کرسکتا۔ ایک شخص جو اپنے قویٰ دماغیہ میں من حیث الفطرت نہایت کمزور ہے۔ مثلاً فرض کرو کہ ایک ایسا ادھورا آدمی ہے جس کو ہمارے ملک کے عوام الناس دَولے شاہ کا چوہا کہا کرتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگرچہ اس کی تعلیم و تربیت میں کیسی ہی کوشش و محنت کی جائے اور خواہ کیسا ہی کوئی بڑا فلاسفر اس کا اتالیق بنایا جاوے لیکن تب بھی وہ اس فطرتی حد سے جو خدا نے اس کے لئے مقرر کردی ہے زیادہ ترقی کرنے پر قادر نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ بباعث تنگئ دائرۂ قابلیت ان مراتبہ عالیہ تک ہرگز پہنچ نہیں سکتا جن تک ایک وسیع القویٰ آدمی پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایسا بدیہی مسئلہ ہے کہ میں باور نہیں کرسکتا کہ کوئی عاقل اس میں غور کرکے پھر اس سے منکر رہے۔ ہاں جو شخص ربقۂ عقل سے قطعاً منخلع ہو اگر وہ منکر ہو تو کچھ تعجب نہیں۔ ظاہر