کے کاموں میں صریح فرق دیکھے اورؔ پھر نہ دیکھے۔ وہ اندھا اور نادان ہی ہوا اَور کیا ہوا۔ پس اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ بے نظیر ہونے کی حقیقت اور کیفیت ربانی کام اور کلام سے مختص ہے اور ہریک دانشمند جانتا ہے کہ خدا کی خدائی ماننے کے لئے بڑا بھارا ذریعہ جو کہ عقل کے ہاتھ میں ہے وہ یہی ہے کہ ہریک صادر من اللہ ایسی صفتوں کے ساتھ پھر کیونکر ممکن ہے کہ بعض صفات کاملہ اس کے بندوں کے کسی کام نہ آویں۔ کیا اس سے زیادہ تر کوئی اور کفر ہوگا کہ یہ کہا جاوے کہ وہ پورا رب العالمین نہیں ہے بلکہ آدھا یا تیسرا حصہ ہے۔ وسوسۂؔ چہارم۔ اگر تکمیل معرفت الہامی کتاب پر ہی موقوف ہے تو اس صورت میں بہتر یہ تھا کہ تمام بنی آدم کو الہام ہوتا تا سب لوگ براہ راست مرتبہ کمال معرفت تک پہنچ جاتے اور ربانی فیض کو بلاواسطہ حاصل کرلیتے۔ کسی دوسرے کی حاجت نہ ہوتی۔ کیونکہ اگر الہام فی نفسہ ایک جائز الوقوع امر ہے تو پھر ہریک انسان کا ملہم ہونا جائز ہے اور اگر نہیں تو پھر کسی فرد کا بھی ملہم ہونا جائز نہیں۔ جواب۔ صاحب الہام ہونے میں استعداد اور قابلیت شرط ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ہر کس و ناکس خدائے تعالیٰ کا پیغمبر بن جائے اور ہریک پر حقانی وحی نازل ہوجایا کرے۔ اس کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں آپ ہی اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ 3 333 الجزو نمبر ۸۱؂ یعنے جس وقت قرآن کی حقیت ظاہر کرنے کے لئے کوئی نشانی کفار کو دکھلائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب تک خود ہم پر ہی کتاب الٰہی نازل نہ ہو تب تک ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ خدا خوب جانتا ہے کہ کس جگہ اور کس محل پر رسالت کو رکھنا چاہیئے۔ یعنے قابل اور ناقابل اسے معلوم ہے اور اسی پر فیضان الہام کرتا ہے کہ جو جوہر قابل ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حکیم مطلق نے افراد بشریہ کو بوجۂ مصالحۂ مختلفہ مختلف طوروں پر پیدا کیا ہے اور تمام بنی آدم کا سلسلۂ فطرت ایک ایسے خط سے مشابہ