خلق جوید پناہ و سایہ کس واں پناہِ ہمہ تو ہستی وبس
ہست یادت کلید ہر کارے خاطرے بے تو خاطر آزارے
ہر کہ نالد بدر گہت بہ نیاز بخت گم کردہ را بیابد باز
لطف تو ترکِ طالبان نکند کس بکارِ رہت زیان نکند
ہر کہ باذات تو سرے دارد پشت بر روئے دیگرے دارد
زینکہ چون کار بر تو بگذارد رو بہ اغیار ازچہ رو آرد
ذاتِ پاکت بس ست یار یکے دل یکے جان یکے نگار یکے
ہر کہ پوشیدہ با تو در سازد رحمتت آشکار بنوازد
ہر کہ گیرد درت بصدق و حضور از در و بام او ببارد نور
ہر کہ راحت۱ گرفت کارش شد صد امیدے بروز گارش شد
ہر کہ راہ تو جُست یافتہ است تافت آن رو کہ سرنتافتہ است
وانکہ از ظل قربت تو رمید بردر ہر کہ رفت ذلت دید
اے خداوندِ من گناہم بخش سوئے درگاہِ خویش راہم بخش
روشنی بخش در دل و جانم پاک کُن از گناہِ پنہانم
دلستانی و دلربائی کن بہ نگاہے گرہ کشائی کن
در دو عالم مرا عزیز توئی و آنچہ میخواہم از تو نیز توئی

لاکھ لاکھ حمد اور تعریف اس قادر مطلق کی ذات کے لائق ہے کہ جس نے ساری ارواح اور اجسام بغیر کسی مادہ اور ہیولیٰ کے اپنے ہی حکم اور امر سے پیدا کرکے اپنی قدرت عظیمہ کا نمونہ دکھلایا اور تمام نفوس قدسیہ انبیا کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا سبحان اللہ کیا رحمن اور منان وہ ذات ہے کہ جس نے بغیر کسی استحقاق ہمارے کے